42

یاتریوں تک سفارتی عملے کی رسائی ‘مسدود’ کرنے پر بھارت کا پاکستان سے احتجاج

بھارت نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے اپنے ہاں تعینات سفارتی عملے کو ان بھارتی شہریوں سے ملنے سے روک دیا ہے جو ان دنوں مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے پاکستان گئے ہوئے ہیں۔

اتوار کو بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ ایک معمول کی کارروائی رہی ہے کہ زیارت کے لیے جانے والے شہریوں کی معاونت کے لیے ہائی کمیشن کے اہلکار ان سے رابطہ کرتے ہیں۔

“تاہم اس برس قونصلر ٹیم کو بھارتی سکھ یاتریوں تک رسائی کے لیے منع کر دیا گیا۔۔۔بھارت نے اس پر پاکستان سے احتجاج کیا ہے۔”

بھارت سے کم از کم 1800 سکھ یاتری 12 اپریل سے پاکستان کے دورے پر ہیں اور نئی دہلی کے مطابق پاکستان نے واہگہ بارڈر پر بھارتی قونصلر ٹیم کو ان یاتریوں سے ملنے سے روک دیا۔

مزید برآں بھارت کے دعوے کے مطابق ہفتہ کو ان سکھ یاتریوں سے بھارتی سفارتی حکام سے ملاقات طے ہونے کے باوجود انھیں ملنے کی اجازت نہیں دی گئی جب کہ اسی روز بھارتی ہائی کمشنر جنہوں نے حسن ابدال کے نزدیک پنجہ صاحب گردوارہ کا دورہ کرنا تھا، انھیں بھی راستے سے ہی واپس چلے جانے کا کہا تھا۔

نئی دہلی کے بقول اسلام آباد نے ہائی کمشنر کو “سلامتی” کی وجوہات کی بنا پر پنجہ صاحب جانے سے منع کیا گیا لیکن اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔

پاکستان نے اس پر تاحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان تعلقات کشیدگی کا شکار چلے آ رہے ہیں اور گزشتہ ماہ ہی پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت نے اجمیر میں صوفی بزرگ خواجہ معین الدین چشتی کے عرس پر جانے کے خواہشمند 500 پاکستانیوں کو ویزہ جاری نہیں کیا جو کہ اسلام آباد کے بقول مذہبی سیاحت کے باہمی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔