123

ہٹو بچو

“ہٹو بچو” ایسا یونیورسل جملہ ہے جو کہ جب سے کائنات وجود میں آئی، یہ بھی ساتھ ہی ساتھ وارد ہو گیا تھا، یہ جملہ ہم ساری عمر سنتے ہیں پر بہت کم اس پر عمل کر پاتے ہیں.
آپ گھر سے نکلو تو ٹریفک سے بچو، جب آپ آفس جاؤ تو باس سے بچو، گھر میں بیوی سے بچو، باہر جاؤ تو مہنگائی سے بچو، بنا ٹکٹ سفر کرو تو ٹکٹ چیکر سے بچو، آپ شریف انسان ہیں اور معصوم ہیں تو پولیس سے بچو.
مال دار ہو تو ڈاکو سے بچو، سسرال والے ہیں تو ساس سے بچو، پیٹ خراب رہتا ہے تو باہر کے کھانے سے بچو، اگر بیمار نہیں ہونا صحت پیاری ہے تو نیم حکیم سے بچو، سکون سے رہنا چاہتے ہو تو شادی سے بچو، کوئی آپ کی تعریف کرے تو اس سے بچو.
مہینے کے آخر میں غریب دوستوں اور بجلی کے بل سے بچو، آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ سب ہم جانتے ہیں پھربھی بچ نہیں سکتے، اگر ہم آپ کو اس کا کوئی حل نہ بتا پائیں تو ہمارے دانشور ہونے کا کیا فائدہ، ان سب سے مکمل تو نہیں مگر جز وقتی بچ سکتے ہیں.

کچھ ٹوٹکے عرض کرتی ہوں ذرا غور فرمائیے گا.
آپ مسکرانا چھوڑ دیں۔
منہ ذرا ذرا کم کم دھوئیں۔
شادیوں میں بلکل نہ جائیں بلکہ اپنے آپ کو جنازے اورسوئم کے لیے محدود کردیں۔
کوئی آپ کی تعریف کرے تو سمجھ لیں آپ کی خوشی اس سے دیکھی نہیں جاتی اور وہاں سے دوڑ لگادیں۔
لوگوں کے گھر آنا جانا چھوڑ دیں، کوئی بلا بھی لے تو گھر کے اندر بلکل نہ جائیں۔
کوئی سامنے کھانے کے لیے کچھ لا کر رکھے اور کہے کہ یہ ان کی بہن بیٹی نے خاص آپ کے لیے پکایا ہے تو فوراپیٹ خرابی کا بہانہ کرکے دوڑ لگادیں۔
لوگوں کو ہمیشہ یہ بتائیں کہ آپ بہت ہی مقروض ہیں، یہاں تک کہ بنک والے یا آئی ایم ایف والے آپ کی عمر درازی کی دعائیں مانگتے رہتے ہیں کہ آپ ان کا قرض ادا کئے بنا دنیا سے کوچ نہ کر جائیں۔
کبھی بھی اچھا یا قیمتی لباس زیب تن نہ کیجئے.
جوتا ہمیشہ آپ کے منہ کی طرح بنا پالش کے ہونا چاہیے۔ ایسا نہ ہو لوگ آپ کے منہ سے ذیادہ جوتے کی تعریف کرنے لگیں.
چہرے پر ہمیشہ بارہ بجے رہنے چاہیں، کبھی بھی آپ کا منہ پونے ایک جیسا نہ ہو۔
ٹوٹکے ابھی باقی ہیں پھر کبھی سہی۔

برائے تبصرہ
[email protected]