48

ہندو شدت پسندی، اداکار کمل ہاسن مشکل میں

جنوبی بھارت کے مشہور اداکار کمل ہاسن نے ایک تمل میگزین میں اپنے ہفتہ وار کالم میں ‘ہندو دہشت گردی’ کا موضوع اٹھایا ہے۔کمل ہاسن نے لکھا ہے ‘آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہندو دہشت گردی موجود نہیں ہے پہلے ہندو شدت پسند بات چیت کرتے تھے کرتے تھے اب تشدد کرتے ہیں’۔اپنے کالم میں کمل ہاسن نے یہ بھی کہا کہ سچائی کی جیت ہوتی ہے اس بات سے لوگوں کا بھروسہ اٹھ گیا ہے۔انہوں نے لکھا کہ ‘سچائی کی جیت ہوا کرتی تھی لیکن اب طاقت کی جیت ہوتی ہے’۔ کمل ہاسن کے اس کالم پر شدید ردِ عمل سامنے آیا ہے۔راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس کے راکیش سنہا نے ٹوئٹ کیا ‘کمل ہاسن کے اس بیان کا وقت بہت اہم ہے کیونکہ مرکزی حکومت پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے خلاف کارروائی کا اشارہ دے رہی ہے تب کمل ہاسن ہندو شدت پسندی کے موضوع کو بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے لکھا کہ کمل ہاسن کو ہندو تہذیب کا ہتک کے لیے معافی مانگنی چاہئیے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان جی وی ایل نرسمہا راؤ نے سوال کیا کیا وہ ڈی ایم کے پارٹی کے نزدیک آنے کے لیے ہندووں کی بے عزتی کر رہے ہیں۔کمل ہاسن سے پہلے فلمساز انوراگ کشیپ بھی ہندو دہشت گردی کا موضوع اٹھا چکے ہیں۔ راجستھان کے شہر جے پور میں فلم ‘پدما وتی’ کے سیٹ پر توڑ پھوڑ اور مار پیٹ کے واقعہ کے بعد انوراگ نے کہا تھا کہ ہندو دہشت گردی ایک حقیقت ہے۔