20

گرمی کی شدت سے بچنا ہے!

گرمی کے موسم کا آغاز پوری آب و تاب سے ہو چکا ہے۔
یہ موسم ایک تو جسم میں پانی کی کمی پیدا کرتا ہے اور دوسرے اس موسم میں شدید گرمی اور پسینے کی وجہ سے جسم میں نمکیات کا توازن بھی قائم نہیں رہ پاتا۔ اس کے ساتھ ساتھ جسمانی کم زوری کی شکایت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر اس موسم میں ہلکی پھکی صحت بخش غذائیں اور مشروبات استعمال کیے جائیں تو پانی کی کمی کے ساتھ ساتھ جسم کی توانائی کو بھی برقرار رکھا جاسکتا ہے۔
ناشتے میں پراٹھے کے بجائے سبزی کے سینڈوچ یا پین کیکس لیے جاسکتے ہیں۔ دوپہر کے لیے مونگ کی دال اور آلو کی بھجیا تیار کرسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ سلاد کو  اپنے کھانے میں ضرور شامل کرنا ہوگا۔ پودینے کی چٹنی ہاضمے کے لیے بہت ضروری ہے، اس کو دوپہر کے کھانے کے مینو میں سر فہرست رکھیں۔ رات کے لیے چکن اور چاول تیار کیے جاسکتے ہیں۔ گرمی میں چاول کئی طریقوں سے پکائے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔
دال اور سبزی  کے ساتھ چاول کی لذت دگنی ہوجاتی ہے۔ چاول اور سبزیوں کا سوپ بھی مفید رہتا ہے۔ پہلے مرغی کی یخنی بنالیں پھر اس ابلے چاول ڈال کر ہلکا سا پکالیں اور اس میں سبزیاں جو آپ کو پسند ہوں،  جیسے شملہ مرچ، ٹماٹر، بند گوبھی ڈال کر اوپر سے کالی مرچ اور زیرہ ڈال کر کھائیں۔ لذت دوبالا ہوجائے گی۔  اسی طرح اس موسم میں سیاہ یا کالے چنے صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہیں۔
سیاہ چنے ابال لیں اور ان میں سلاد کے پتے، ہری مرچ، ہر ا دھنیا، پیاز، کھیرا، لیموں کا رس، دہی اور زیرہ شامل کر نے بعد ایک چمچہ نمک، مرچ ڈال کر اچھی طرح یکجا کرلیں۔ یہ چاٹ گرمی کے موسم میں ٹھنڈی اور مزے دار لگتی ہے ۔
کچی سبزیوں میں حیاتین اور معدنی نمک بھی ہوتا ہے۔ کھیرا گرمی کی شدت کو کم کرتا ہے۔ ٹماٹر فولاد اور کیلشیم کے حصول کا بہت اچھا ذریعہ  ہے۔ سبز دھنیا دماغ کی کم زوری کو دور کرتا ہے۔ مولی خون میں یورک ایسڈ کی مقدار کو متوازن رکھتی ہے۔ چقندر دل کے امراض کے لیے مفید ہے۔
سلاد میں پیاز ضرور شامل کریں، اس سے نہ صرف آپ کو بھوک لگتی ہے بلکہ کھانے کے ہاضمے میں بھی مدد ملتی ہے اور اس کے علاوہ قبض بھی دور کرتی ہے۔ اگر سلاد میں پھلوں کو بھی شامل کرلیا جائے تو پھر تو سونے پر سہاگا والا کام ہو جائے گا۔ تربوز، آڑو، آم ،خوبانی اور امرود نہ صرف جسم کو توانائی دیتے ہیں، بلکہ معدے اور جگر کی گرمی کا خاتمہ بھی کرتے ہیں۔گرمی میں ٹھنڈا تربوز کھانا صحت کے لیے بہت ہی زیادہ مفید ہے۔
اسی طرح دہی دگنی غذائیت کا حامل ہے۔ گرمی میں دہی سے لسی اور رائتا بنایا جاتا ہے۔ دہی میں پروٹین، کیلشیم اور کیلوریز کی وافر مقدار ہوتی ہے۔ اس موسم میں آلو، کدو، لوکی اور دیگر سبزیوں کا رائتا بھی بنایا جاتا ہے۔
اس موسم میں املی کا رس کھانے میں استعمال کرنے سے لذت دوبالا ہوجاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ  شربت بنانے میں بھی املی بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ اس کی چٹنی بھی تیار کرکے محفوظ کرلی جاتی ہے۔ آلو بخارا بھی موسمی تقاضوں کو پورا کرتا ہے اور اس موسم کے مضر اثرات سے بچاتا ہے۔ آلو بخارے کی چٹنی اور مربا استعمال کرنے سے سر کا درد ختم ہوتا ہے اور قے کی شکایت بھی کم ہوتی ہے۔
گرمی میں فالسہ دل کی گھبراہٹ اور پیاس کی شدت کو دور کرے ٹھنڈک پیدا کرتا ہے۔ کچا یا بہت پکا ہوا فالسہ نقصان دہ ہوتا ہے۔ دھوپ میں گھر سے باہر نکلتے ہوئے منہ میں ایک الائچی رکھ لیں۔ اس کے علاوہ الائچی کا شربت بھی گرمی کی شدت کو کم کرتا ہے۔
صندل ایک مہکتا ہوا مشروب ہے۔ یہ طبیعت میں تازگی پیدا کرتا ہے اور روح کو فرحت بخشتا ہے۔ آدھا کلو گلاب کا عرق اور آدھا کلو صندل لے کر پکالیں اور اچھی طرح چھان لیں۔ چینی اور پانی شیرہ بنا کر اس میں صندل کا پانی ڈال کر ہلکی آنچ پر پکالیں پھر ٹھنڈا کر رکھ لیں یہ گرمی کے لیے بہترین شربت ہے۔ آپ گرمی کی شدت کو اپنے دسترخوان پر لذیذ اور صحت بخش غذائیں سجا کر کافی حد تک کم کرسکتی ہیں۔ ابھی سے ان کی تیاری شروع کر دیں۔
The post گرمی کی شدت سے بچنا ہے! appeared first on ایکسپریس اردو.