40

کو ئلے کی کان میں دھماکہ، چار کانکن ہلاک

بلوچستان کے علاقے سنجدی میں کو ئلے کی کان کے اندر ہونے والے ایک دھماکے میں چار کانکن ہلاک اور نو دیگر سیکڑوں فٹ نیچے کان کے اندر پھنس گئے ۔

کو ل انسپکٹر افتخار احمد کے مطابق اتوار کی سہ پہر کو 13 کانکن کان سے کوئلہ نکالنے کے لئے سیکڑوں فٹ زیر زمین چلے گئے۔ کام شروع کرنے کے بعد کان میں چنگاریاں پیدا ہونے سے اچانک دھماکہ ہوا ۔

دھماکے کے بعد تمام کانکن سیکڑو ں من مٹی کے نیچے دب گئے جن کو نکالنے کے لئے کارروائی شروع کر دی گئی اور شام تک چار کانکنوں کی لاشیں نکالی گئیں۔ دیگر کی تلاش کا کام جاری ہے ۔

بلوچستان کے 8 اضلاع میں موجود ہزاروں کو ئلے کی کانوں میں اکثر و بیشتر حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔ گزشتہ مئی میں ضلع کوئٹہ کے نواحی علاقے میں موجود کوئلے کی کانوں میں دو دھماکوں سے 23 کانکن، اپریل میں ضلع قلات کے علاقے میں ایک کان میں دھماکے سے چھ کانکن جب کہ گزشتہ سال ستمبر میں ایک ہفتے کے دوران پیش آنے والے تین مختلف حادثات میں آٹھ کانکن ہلاک ہوگئے تھے۔

2011ء میں ایک کان کے اندر ہونے والے گیس کے دھماکے میں 50 مزدور ہلاک ہو گئے تھے جبکہ تقریباً ہر ماہ ہی کان سے کو ئلہ نکالنے  والی ٹرالی اور مٹی کے تودے گرنے کے درجنوں واقعات میں بھی اکثر وبیشتر کانکن ہلاک یا زخمی ہوتے رہتے ہیں۔