43

کالعدم قرار دیے گئے دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی اقدامات پر امریکہ کا محتاط خیرمقدم

واشنگٹن — 
امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اُس فہرست پر عمل درآمد جس کا تعلق’’دہشت گردوں‘‘ سے ہے، پاکستان کی جانب سے افراد اور گروپوں کے خلاف بندش عائد کرنے کے اقدامات کا محتاط انداز سے خیرمقدم کیا ہے۔ تاہم، امریکی عہدے دار یہ نہیں کہہ رہے ہیں آیا لیا گیا اقدام اِس سطح کا ہے کہ بین الاقوامی دہشت گرد مالیاتی واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل کرنے کے معاملے پر دباؤ میں نرمی برتی جائے۔
امریکی محکمہٴ خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ ’’ہم اضافی اطلاعات کے منتظر ہیں آیا اِن اقدامات پر کس طرح عمل درآمد ہو رہا ہے، اور یہ کہ دہشت گرد گروپوں کے انسداد کےحوالے سے کیا ٹھوس اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، جو معاملہ بہت ہی اہم ہے‘‘۔
اس ہفتے ’رائٹرز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور برطانیہ نے ’فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس‘ کے سامنے ایک تحریک پیش کی ہے کہ پاکستان کا نام اُس کی قابل نوٹس فہرست میں ڈالا جائے۔ ٹاسک فورس منی لانڈرنگ کی روک تھام کی نگرانی کا کام انجام دیتا ہے۔ بعدازاں، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں ملکوں نے فرانس اور جرمنی کو اس بات پر قائل کر لیا ہے کہ وہ اس تحریک کی سرپرستی میں شریک ہوں۔
ٹاسک فورس کے ابتدائی اجلاس کا آغاز18 فروری سے پیرس میں ہوگا۔
ایک اعلیٰ پاکستانی عہدے دار نے کہا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے ضابطوں پر عمل درآمد کر رہا ہے اور رکن ملکوں کو بریفنگ بھی دی جارہی ہے آیا دہشت گردی کی مالی اعانت کی روک تھام کے معاملے پر پاکستان کیا اقدامات اٹھا رہا ہے۔
عہدے دار نے مزید کہا کہ ’’ہمارے ایلچی پہلے ہی مختلف رکن ملکوں میں پہنچ چکے ہیں جہاں اُنھیں بریفنگ دی جا رہی ہے‘‘۔