67

کابل میں داعش کے 8 کارندے گرفتار

افغانستان میں عہدے داروں نےکہا ہے کہ انٹیلی جینس کے قومی ادارے نے دار الحکومت کابل میں داعش کے آٹھ کارندے گرفتار کر لیے ہیں۔
ہفتے کے روز سیکیورٹی کے نیشنل ڈائریکٹر نے کہا کہ ان افراد کو شہر کے الگ الگ مقامات سے گرفتار کیا گیا۔
یہ گرفتاریاں کابل میں افغان فوجی اکیڈمی پر داعش کے پانچ بھاری طور پر مسلح خود کش بمباروں کے اس حملے کےدوران عمل میں آئی ہیں جس میں11 فوجی ہلاک اور 16 دوسرے زخمی ہوئے تھے۔
فوجی اکیڈمی پر حملہ صرف دو روزکے دوران ہونے والے طالبان کے دو حملوں کے بعد ہوا جن میں بڑے پیمانے کا ایک کار بم حملہ شامل تھا جس میں کابل میں لگ بھگ 140 لوگ ہلاک ہوئے تھے۔
افغان سیکیورٹی فورسز نے اس کے بعد سے دار الحکومت کے ارد گرد سیکیورٹی بڑھادی ہے اور مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر چھاپوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
ان اچانک چھاپوں کے نتیجے میں انٹیلی جینس کا ادارہ کابل کے قلعہ الولید کے مضافاتی علاقے میں داعش کے ایک محفوظ مکان تک بھی پہنچا تھا جو جو دھماکہ خیز مواد اور خود کش جیکٹوں سے بھرا ہوا تھا۔
عہدےد اروں نے بتایا ہے کہ أفغان فورسز فوجی اکیڈمی پر حملے کے دوران گرفتار کئے گئے ایک شورش پسند سے حاصل کی گئی معلومات کی مدد سے اس احاطے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔
افغان صدر اشرف غنی نے حملے کی تحقیقات کے نتیجے میں ملنے والی معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے دو جنرلوں سمیت سات فوجی افسروں کو پیشہ ورانہ غفلت کی بنا پر بر طرف کر دیا۔
کابل میں سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث غنی حکومت پر شہر کے تحفظ میں ناکامی کی بنا پرتنقید بڑھ گئی ہے۔ نقاد کابل اور أفغانستان کے دوسرے مقامات پر تشدد میں اضافے کا الزام افغان سیکیورٹی اداروں میں بڑے پیمانے کی بدعنوانی پر عائد کرتے ہیں۔
اسی دوران جنوبی صوبے ہلمند میں عہدے داروں نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ ایک بیرونی سیکیورٹی چوکی پر طالبان کے رات بھر کے ایک حملے میں 6 افغان پولیس اہل کار ہلاک اور 8 زخمی ہو ئے ہیں۔
طالبان نے جمعے کی رات دیر گئے ناوا ڈسٹرکٹ پر کیے جانے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی اور دعوی کیا کہ اس نے أفغان فورسز کے 15 اہل کاروں کو ہلاک کیا ہے ۔ شورش پسندوں کی جانب سے ہلاکتوں کے بارے میں دی جانے والی تعداد اکثر مبالغہ آرائی پر مبنی ہوتی ہے۔