54

پہلی بیوی سے اجازت کے بغیر دوسری شادی پر قید کی سزا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی مقامی عدالت نے ایک شخص کو بیوی سے اجازت حاصل کیے بغیر دوسری شادی کرنے پر چھ ماہ قید اور دو لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔جوڈیشل میجسٹریٹ سید علی جواد نے عائشہ خلیل کی درخواست پر سماعت کی جس میں موقف اختیار کیا کہ ان کی شادی ثاقب سہیل سے جولائی 2013 میں ہوئی اور جب ان کے ہاں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی تو ان کے شوہر کا رویہ آہستہ آہستہ بدلنا شروع ہو گیا۔’دوسری بیوی‘ کی ویب سائٹ سے خواتین کو بھی ’فائدہ‘’وہ تین ہفتے تک میرا ریپ کرتا رہا‘’لڑکی کی شادی کی عمر کم از کم 18 سال کرنے کی تجویز‘انھوں نے کہا کہ اس کے بعد بات یہاں تک پہنچ گئی کہ ان کے شوہر انھیں روز تشدد کا نشانہ بنانے لگے۔درخواست گزار کے مطابق اسی دوران انھیں معلوم ہوا کے ثاقب سہیل کی شادی نومبر 2011 میں روبینہ نامی خاتون سے ہوئی تھی جبکہ انھوں نے نکاح نامے میں خود کو کنوارہ ظاہر کیا تھا۔اس کے بعد عائشہ خلیل کے بقول انھیں معلوم ہوا کہ ان کے شوہر نے لاہور کے علاقے شاہدرہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سے تیسری شادی کر لی ہے۔اس کے بعد عائشہ خلیل نے مسلم فیملی آرڈیننس 1961 کے سیکشن چھ کے تحت اپریل 2016 میں اپنے شوہر کے خلاف کیس درج کرایا جس میں استدعا کی گئی کہ اجازت کے بغیر دوسری شادی کی گئی ہے اور اس کے لیے ان کے شوہر کی دوسری شادی کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔عدالت نے تمام شواہد اور گواہوں کے بیانات کے بعد ثاقب سہیل کو چھ ماہ قید اور دو لاکھ جرمانے کی سزا سنائی ہے۔