33

پاکستانی خواجہ سرا کی فلم امریکی ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب

کامی سڈ، جن کا اصل نام کامران صدیقی ہے ، ایک ایسے خواجہ سرا ہیں جو دنیا بھر میں پاکستان کی ’سافٹ امیج ‘ بن کر ابھرے ہیں۔

ایک ایسے معاشرے میں جہاں خواجہ سراؤں کو نہ تو اچھی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور نہ اچھا رویہ روا رکھا جاتا ہے وہیں کامی سڈ نے فیشن شوٹ کی دنیا سے شارٹ فلم تک کا ایک طویل اور کامیاب سفر طے کیا ہے ۔

ان کا نیا کارنامہ فلم ’رانی‘ ہےجسےامریکہ میں ’ این بی سی یونیورسل شارٹ فلم فیسٹیول‘ میں ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ فلم کے رائٹر ڈائریکٹر حماد رضوی کو ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

کامی یہ فلم دیگر کئی فیسٹولز میں بھی نامزدگی کے ساتھ ساتھ دکھائی جاچکی ہے۔ پاکستان میں اسے رواں سال جولائی میں ریلیز کیا گیا تھا ۔ فلم کی تمام شوٹنگ کراچی میں ہوئی ہے۔

مختصر دورانئے کی فلم ’رانی ‘ میں ایک خواجہ سرا لاوارث بچے کی دیکھ بھال کرتا اور معاشرے کے لئے ایک اچھی مثال بناکر پیش کرتا دکھایا گیا ہے۔

کامی سڈ نے خواجہ سراؤں کے خلاف تشدد اور اُن کے اطراف پھیلے فوبیا کے خاتمے کی امید کے ساتھ برطانوی نشریاتی ادارے کی دستاویزی فلم’How Gay is Pakistan‘ میں بھی کام کیا ہے جبکہ وہ ایل بی جی ٹی کے لئے سرگرمیوں کے حوالے سے بھی جانی پہچانی جاتی ہیں۔

کامی سیڈنے فلم کی کامیابی پر وی او اے سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ’ پاکستانی خواجہ سرا خوبصورت بھی ہیں اور ٹیلنٹ رکھنے والے بھی۔ بس انہیں ضرورت ہے تو اچھے مواقع کی ہے ۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ پاکستانی ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو پہلی بار مثبت انداز میں پیش کرنے کی کامیاب کوشش ہے۔۔۔ اور دنیا بھر میں اس کوشش کو سراہا گیا ہے۔میں خود کو  بہت خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ مجھے’ رانی ‘ میں کام کرنے کا موقع ملا ۔‘

اس خبرکوبھی پڑھیں:  انٹر پاس کوہلی کی اہلیہ انوشکا شرما کتنی تعلیم یافتہ؟

وی او اے کے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا ’میری پہلی شرط ’ اچھا کام ہے‘ پھر چاہے وہ ہالی وڈ سے آفر ہوا ہو یا بالی وڈ سے ۔۔ میں اچھے کام کو کبھی منع نہیں کروں گی ۔مجھے پوری دنیا کی ٹرانس جینڈر کمیونٹی سے پیار ہے ۔میں لاس اینجلس آئی ہوں تو پتا چل رہا ہے کہ کتنے پروفیشنل لوگ ہیں اور کس طرح کا کام کر رہے ہیں ۔ ‘

کامی پاکستان کے پہلے ٹرانس جیندر ہیں جنہوں نے کئی ممالک میں ہونے والی فیشن ریمپ واک میں بھی شرکت کی ہے ۔ فلم ’رانی ‘ کے لئے خود کو منتخب کرنے کے حوالے سے انہوں نے بتایا ’میں اس سے پہلے بھی کئی گرے اسکیل کی دستاویزی فلموں میں کام کرچکی ہوں لیکن ’رانی‘ میں مجھے ایک رئیل ایکٹریس کے طور پر بھرپور انداز سے کام کرنے کا موقع ملا۔ ابتدا میں میں نے فلموں میں کام کرنے سے منع کردیا تھا لیکن حماد کو میرا ہی کام سب سے زیادہ پسند آیا تھا ، یوں مجھے فلم میں کام کرنے کا موقع ملا۔ ‘

فلم میں بہت مشکل موضوع کو بہت عمدگی کے ساتھ اسکرین پر ڈھالا گیا ہے، یہ فلم کی خاصیت ہے جبکہ اس کے کردار جاندار اور کہانی متاثر کن ہے۔

کامی ، ایک سوشل ایکٹوسٹ ، موٹیو یشنل اسپیکر ، ماڈل اور اب اداکارہ بھی ہیں ۔ وہ تعلیم یافتہ ہیں اور اپنی تمام کمیونٹی کو تعلیم یافتہ ہونے کا مشورہ دیتی ہیں۔

ان کے خیال میں ’معاشرے میں بہتری آرہی ہے ، میڈیا پر ٹرانس جینڈرز پر بات کی جانے لگی ہے۔‘

اس خبرکوبھی پڑھیں:  سوہائے علی ابڑو کی ’’موٹر سائیکل گرل‘‘ 20 اپریل کو نمائش کیلیے پیش ہوگی

وہ بیکن ہاؤس اسکول کے پروجیکٹ کا حصہ ہیں جس کے ذریعے طلبہ کو سیکھایا جا رہا ہے کہ ’ ٹرننس جینڈر‘ ہونا کوئی برائی نہیں۔ نہ ہی یہ لوگ معذور ہیں ۔بس انہیں اپنے خاندان اور معاشرے کے اعتماد اور ساتھ کی ضرورت ہے ۔‘