50

نواز شریف کا عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ

عبداللہ فاروقی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ اور نااہل قراد دیے جانے والے سابق وزیر اعطم نواز شریف نے کرپشن کے مقدمات کے تناظر میں بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ اور آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات کے پیش نظر عوامی رابط مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لندن سے وطن واپس پہنچنے کے بعد جمعرات کو اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں سے مشاورت کے بعد عوامی رابطہ مہم کا آغاز آئندہ دس روز کے دوران ایبٹ آباد میں جلسۂ عام سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما مشاہداللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’12 نومبر کے آس پاس نواز شریف ایبٹ آباد میں بہت بڑا جلسہ کریں گے جس کا مطلب انتخابی مہم بھی لیا جا سکتا ہے اور سیاسی جواب کے طور پر بھی۔ مقام کا انتخاب بھی اس لیے سوچ کر کیا گیا ہے کہ پنجاب کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی دکھایا جایے کہ عوام نے نا اہلی کا فیصلہ نہیں مانا’۔ریفرنس یکجا کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کا حکمنواز شریف پاکستان آ کر عدالت میں پیش ہوں گے’لوگ کہتے ہیں مجھے ایک خاص کردار ادا کرنا ہے‘وفاقی وزیر ماحولیات نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کے روز حکمراں جماعت کا کوئی مشاورتی یا پارلیمانی اجلاس نہیں تھا البتہ مختلف رہنما اور وزرا ان سے ملاقات کرنے اسلام آباد میں واقع پنجاب ہاؤس جاتے رہے۔مشاہداللہ خان کے مطابق میاں نواز شریف اور دیگر پارٹی رہنماؤں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جمعرات کے فیصلے کو خوش آئیند اور مثبت قرار دیا۔ انھوں نے بتایا ‘میرے نزدیک بظاہر چھوٹی دکھائی دینے والی آسانی بہت بڑی مدد ہے اور موجودہ حالات میں نواز شریف کے لیے واحد اچھی اور حوصلہ افزا خبر ہے’۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کو ایک فیصلہ میں احتساب عدالت کو حکم دیا تھا کہ وہ نواز شریف کی طرف سے ان کے خلاف زیر سماعت تین ریفرنسوں کو یکجا کرنے کی درخواست کو رد کیے جانے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ جمعرات کو نوازشریف اور دیگر رہنماؤں کی ملاقاتوں کے دوران مریم نواز کے حوالے سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی البتہ این اے 120 کی مہم کے دوران ان کے کام کو سراہا گیا۔ جمعرات کے روز پنجاب ہاؤس حکمران جماعت کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا اور وہاں مسلم لیگ ن کے مختلف رہنماؤں کا اپنے صدر سے ملاقات کے لیے آنے کا تانتا بندھا رہا۔ چند وفاقی وزرا سینیٹ کے اجلاس میں شرکت سے قبل اور اس کے بعد نواز شریف سے ملاقات کرنے گئے۔ اطلاعات کے مطابق چوہدری نثار علی خان نے بھی دیگر رہنماؤں کی طرح نواز شریف سے پنجاب ہاؤس میں ملاقات کی۔ مسلم لیگ ن کے صدر نے مختلف رہنماؤں کی ذمہ دامہ داریاں بھی لگائیں لیکن اس بارے میں مذید اطلاعات نہیں مل سکیں کہ وہ ایبٹ آباد کے جلسے سے متعلق ہیں یا جمعے کے روز احتساب عدالت میں پیشی سے متعلق ہیں۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  'جماعت الدعوۃ و دیگر شدت پسند تنظموں پر مستقل پابندی عائد کرنے کی تجویز'

مسلم لیگ ن کی ایک اور فعال رکن قومی اسمبلی مائزہ حمید نے بی بی سی کو بتایا کہ سابق وزیر اعظم ‘بڑے فکرمند ہیں لیکن وہ اس کی وجہ ان کی اہلیہ کی صحت ہے۔ اس کے علاوہ وہ کسی قسم کے احتساب سے خوف زدہ نہیں’۔سابق وزیر اعظم نواز شریف جمعرات کے روز ہی واپس وطن لوٹے ہیں اور وہ جمعے کے روز احتساب عدالت میں پیش ہوں گے۔ ان کے وطن پہنچنے کے بعد دوپہر میں کئی رہنما ان سے ملاقات کرنے پنجاب ہاؤس پہنچے لیکن نواز شریف کے آرام کرنے کی وجہ سے ملاقات نہ کر سکے البتہ شام کے بعد ملاقاتوں کا سلسلہ رات تک جاری رہا۔ یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں احتساب عدالت نے نواز شریف کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر کے ان کے وکیل سے کہا تھا کہ اُن کے موکل اگر تین نومبر کو سماعت پر عدالت میں پیش نہ ہوئے تو پھر ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے جائیں گے۔نواز شریف تین مختلف ریفرنسوں میں مرکزی ملزم ہیں، جب کہ ان کی صاصبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر ایک کیس میں ملزم ہیں۔نواز شریف پر ایون فیلڈ، العزیزیہ سٹیل مل اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ کے معاملے میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔نواز شریف اور ان کے اہلِ خانہ صحتِ جرم ماننے سے انکار کیا ہے۔اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نواز شریف کے بیٹوں حسن اور حسین نواز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری اور ان کے اثاثے منجمد کرنے کے احکامات جاری کیے ہوئے ہیں۔