53

نواز شریف پاکستان پہنچ گئے

اسلام آباد — 
سابق وزیرِاعظم میاں نوازشریف لندن سے پاکستان واپس پہنچ گئے ہیں جہاں وہ قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ریفرنسز کی سماعت کے موقع پر جمعے کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش ہوں گے۔
سابق وزیراعظم جمعرات کی صبح اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچے۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
کئی وفاقی وزرا سمیت پاکستان مسلم لیگ(ن) کی اعلیٰ قیادت نے نواز شریف کا استقبال کیا۔ ایئرپورٹ آنے والوں میں راجہ ظفرالحق، پرویز رشید، سعد رفیق، مشاہد اللہ خان، چوہدری تنویر، امیر مقام، طارق فضل چوہدری اور میئر اسلام آباد شیخ انصر شامل تھے۔
ایئرپورٹ کے لاؤنج میں نواز شریف نے اپنی پارٹی کے رہنماؤں اور حکومتی وزرا سے مختصر ملاقات کی جس کے بعد وہ پنجاب ہاؤس اسلام آباد روانہ ہوگئے جہاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا۔
نوازشریف اپنی ذاتی گاڑی اور ذاتی سیکیورٹی میں ایئرپورٹ سے اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس پہنچے۔
اسلام آباد ایئر پورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی گرفتاری کا کوئی امکان نہیں، نیب حکام زیادہ سے زیادہ سمن کی تعمیل کرائیں گے۔
میئر اسلام آباد شیخ انصر نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ میاں نوازشریف کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں تاہم ان کی گرفتاری کا امکان نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حسین اور حسن نواز کا نیب ریفرنسز میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ اپنا ہے۔
نواز شریف اپنے وکلا کی ٹیم سے بھی جمعرات کی سہ پہر ملاقات کر کے جمعے کو احتساب عدالت میں ہونی والی پیشی کے حوالے سے مشاورت کریں گے۔
سابق وزیرِ اعظم گزشتہ کئی روز سے اپنی اہلیہ کلثوم نواز کی تیمارداری کے لیے لندن میں موجود تھے۔
احتساب عدالت میں نیب ریفرنسز کی گزشتہ سماعت پر نواز شریف عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے جس پر عدالت نے ان کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے جس کے سمن کی تعمیل کے لیے نیب کی ٹیم نے کل نوازشریف کے طیارے تک رسائی مانگی تھی۔
لیکن ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ(ن) کی طرف سے نیب ٹیم کو کہا گیا تھا کہ وہ دن بارہ بجے پنجاب ہاؤس آجائیں جہاں وہ نواز شریف سے نیب عدالت کے سمن کی تعمیل کراسکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ن لیگ کی اس درخواست کے بعد ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی ناصر اقبال نے نیب کی 10 رکنی ٹیم کو اسلام آباد ایئرپورٹ جانے سے روک دیا تھا اور نیب اہلکاروں کو پنجاب ہاؤس میں نوازشریف کے سمن کی تعمیل کی ہدایت کی تھی۔
احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف تین نیب ریفرنسز زیرِ سماعت ہیں جس میں سابق وزیرِ اعظم، ان کی صاحبزادی اور داماد پر فرد جرم عائد کی جاچکی ہے۔