51

نواز شریف پاکستان آ کر عدالت میں پیش ہوں گے

پاکستان کے معزول وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ پاکستان آ کر تین نومبر کو احتساب عدالت میں پیش ہوں گے۔ لندن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم فرار کا راستہ اختیار نہیں کریں گے، ہم نے خود کو مافیا قرار دینے والی عدالت کا سامنا کیا ہے، اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔’پاکستانی میڈیا پر چلنے والی خبروں کے مطابق نواز شریف جمعرات کی صبح پاکستان پہنچیں گے۔ یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں احتساب عدالت نے نواز شریف کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر کے ان کے وکیل سے کہا تھا کہ اُن کے موکل اگر تین نومبر کو سماعت پر عدالت میں پیش نہ ہوئے تو پھر ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے جائیں گے۔نواز شریف نے بدھ کو لندن میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ لندن میں ان کی اہلیہ کا علاج چل رہا ہے اور ‘ڈاکٹروں نے ہدایت کی ہے کہ مجھے انھیں زیادہ سے زیادہ وقت دینا چاہیے ۔۔۔ لیکن میں آج شام کو پاکستان جا رہا ہوں، اور تین نومبر کو خود عدالت میں پیش ہوں گا۔ ‘میرے اندر بھی کوئی جذبات ہیں۔ میرے اندر کے احساسات کہتے ہیں کہ میں کیوں اپنی اہلیہ کی عیادت چھوڑ کر ایک بوگس کیس بھگتنے کے لیے پاکستان جاؤں؟’ادھر میری اہلیہ کا علاج چل رہا ہے اور ادھر میں پاکستان جانے کے لیے فلائیٹ لینے آ گیا ہوں۔’

معزول وزیرِ اعظم نے اپنا موقف ایک بار پھر دہرایا کہ ان کے خلاف پاناما کیس میں کچھ نہیں ملا۔ ‘ججوں کو پاناما میں سے کچھ نہیں ملا، اور ان کا فیصلہ کسی نے قبول نہیں کیا، اب وہ اپنی خجالت مٹانے کے لیے جج اوپر بٹھا کر ریفرنسوں میں سے کچھ نکالنا چاہتے ہیں۔’ انھوں نے سوال کیا کہ ہم ہر دس سال بعد ملک کیوں چھوڑیں؟ ‘میرے خلاف کیس بالکل بوگس ہے۔ یہ کیس بھی سپریم کورٹ کے کیس کا شاخسانہ ہے۔ اگر وہ کیس ٹھیک نہیں تو یہ کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے؟’انھوں نے کہا کہ پاکستان کے نظام میں تضادات ہیں اور سوال اٹھایا کہ ‘پاکستان کے اندر یہ سب کچھ کب بدلے گا؟’