60

نقش و نگار کا حامل بیلن

چکلابیلن صدیوں سے گھروں میں استعمال ہوتا آرہا ہے۔ باورچی خانے میں استعمال ہونے والی بہت سی چیزیں متروک ہوگئی ہیں مگر چکلابیلن کا متبادل اب تک تلاش نہیں کیا جاسکا۔
روٹیاں پکانے والی مشین اگرچہ ایجاد ہوچکی ہے مگر گھریلو سطح پر اس کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔ چناں چہ آج بھی چکلابیلن کی اہمیت اسی طرح برقرار ہے۔ ایک زمانے میں صرف لکڑی کے چکلابیلن استعمال ہوتے تھے، پھر سنگ مرمر کے باورچی خانوں میں نظر آنے لگے۔ اس مفید آلے میں تازہ اختراع اس کی سطح پر اُبھارے گئے نقش و نگار ہیں۔ روایتی سادہ بیلن سے پیڑے کو بیل کر روٹی کی شکل دی جاتی ہے۔
لیکن اگر آپ دیدہ ذیب بسکٹ، پوریاں، کچوریاں بنانا چاہیں تو پھر یہ بیلن لے آئیے جس پر مختلف نقش و نگار کُھدے ہوتے ہیں۔ ان میں پُھول پتیاں، مختلف جانوروں اور مربع، مثلث، تکون وغیرہ کے نقش و نگار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فرمائشی بیلن بھی بنوائے جاسکتے ہیں جن پر حسب منشا تصویر، نقش و نگار یا نام کھدوایا جاسکتا ہے۔ انھیں استعمال اس طرح کیا جاتا ہے کہ پہلے عام بیلن سے پیڑے کو ہموار کرلیا جاتا ہے اور پھر اس کے اوپر ایک بار یہ بیلن پھیردیا جاتا ہے۔
The post نقش و نگار کا حامل بیلن appeared first on ایکسپریس اردو.