37

نامور فنکار قاضی واجد بھی دنیا سے رخصت ہو گئے

کراچی — 
پاکستان کے نامور سینیئر ٹی وی اور ریڈیو ریڈیو ادکار و صداکار قاضی واجد اتوار کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر 87 ساتھ تھی۔قاضی واجد کے اہل خانہ نے بتایا کہ انہیں گزشتہ رات دل میں تکلیف کے باعث اسپتال داخل کرایا گیا تھا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔قاضی واجد 26 مئی 1930 کو پیدا ہوئے تھے۔ان کا ریڈیو، تھیٹر اور ٹی وی پر پھیلا فنی سفر 65 سالوں پر محیط تھا۔ وہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے ابتدائی سالوں سے ہی فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں سے وابستہ ہوگئے تھے۔
سینکڑوں ڈرامے، اسٹیج اور دیگر فنی شعبوں میں شاندار خدمات کے عوض انہیں حکومتِ پاکستان نے 1988 میں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازاتھا۔’خدا کی بستی‘، ’حوا کی بیٹی‘،’ تنہائیاں‘، ’پل دو پل‘، ’کرن کہانی’،’ آنگن ٹیڑھا‘،’ دھوپ کنارے‘اور’ تعلیم بالغاں‘ ایسے کامیاب ڈرامے قاضی واجد کی گرانقدر صلاحتیوں کا منہ بولتا ثبوت رہے ہیں۔ان کا شمار پاکستان میں ریڈیو انڈسٹری کے بانیوں میں ہوتا تھا جبکہ ملک میں ٹی وی کے بلیک اینڈ وائٹ سے رنگین ہونے تک کا سفر میں بھی قاضی واجد اپنے فن کے ذریعے پیش پیش رہے۔
ان کے انتقال پر فنی، ادبی، سیاسی و سماجی حلقوں کی طرف سے گہرے افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔