49

ناصر عباس شیرازی اغوا، ’ذمہ دار رانا ثنا اللہ‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور سے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ایڈووکیٹ سید ناصر عباس شیرازی کو اغوا کر لیا گیا ہے۔مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ایڈووکیٹ سید ناصر عباس شیرازی کو لاہور کے علاقے واپڈا ٹاؤن سے اغوا کیا گیا۔ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ گذشتہ رات نو بجے اس وقت پیش آیا جب سید ناصر عباس شیرازی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ واپڈا ٹاؤن مارکیٹ میں موجود تھے۔’ایک ایلیٹ فورس کی گاڑی میں وردی اور سادہ لباس میں چند لوگ آئے اور اسلحے کے زور پر انھیں اپنے ساتھ گاڑی میں بیٹھا کر لے گئے۔‘انھوں نے کہا کہ تاحال اس حوالے سے حکومت کی جانب کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ ناصر عباس شیرازی نے صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں ایک آئینی پٹیشن کر رکھی ہے جس کی سماعت دو رکنی بینچ کر رہا ہے۔اس پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ رانا ثنا اللہ اپنے بیانات سے عدلیہ کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا ہے کہ ’اگر ناصر عباس شیرازی سے کوئی مسئلہ تھا تو انھیں بلوایا بھی جا سکتا تھا۔ وہ پارٹی کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل ہیں۔ اس طرح سے انھیں بیوی بچوں کے سامنے لے کے جانا انتہائی افسوسناک ہے۔‘دوسری جانب اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے رانا ثنا اللہ پر الزام لگائے جانے کے بعد پاکستان کی سیاسی جماعت تحریک انصاف کی شیریں مزاری نے ٹوئٹر پر لکھا: ’ایم ڈبلیو ایم کے ناصر شیرازی نے لاہور ہائی کورٹ میں رانا ثنا اللہ کو نااہل قرار دیے جانے کے لیے پٹیشن دائر کی اور گذشتہ رات انھیں جبری طور پر اٹھا لیا گیا۔‘شیریں مزاری کی اس ٹویٹ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بعض صارفین نے ان کے حق میں جبکہ بعض ان کے خلاف لکھا۔ایک صارف نے لکھا کہ ’براہ مہربانی اس معاملے کو سینیٹ میں بھی اٹھایا جائے۔‘ ایک اور صارف نے لکھا: ’اور بھی کافی لوگ فورسبلی پکڈ اپ ہیں کبھی ان کا بھی ذکر فرما دیں۔‘علامہ ناصر عباس جعفری نے بتایا کہ جب وہ رانا ثنا اللہ اور شہباز شریف کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے پولیس سٹیشن گئے تو وہاں موجود اہلکاروں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ’وہ اتنے بڑے لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کر سکتے‘۔علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا ہے کہ پولیس سٹیشن سے انکار کے بعد اب انھوں نے عدالت میں درخواست دی ہے۔انھوں نے بتایا کہ وہ ناصر عباس شیرازی کے اغوا کے حوالے سے آج یعنی جمعرات کو ایک پریس کانفرنس کریں گے جس کے بعد کل یعنی جمعہ کو ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔