44

نااہلی کی مدت کے تعیّن سے متعلق فیصلہ محفوظ

پاکستان کی سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ارکان پارلیمان کی نااہلی کی مدت کا تعیّن کرنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ سابق وزیر اعظم اور حکمراں جماعت کے سربراہ میاں نواز شریف اور حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی بھی آئین کے اُسی ارٹیکل کی تحت ہی ہوئی تھی۔نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اٹارنی جنرل نے جو پاکستان کے چیف لا افسر بھی ہیں، سماعت کے آخری دن کہا کہ نااہلی کی مدت کے تعین کا فیصلہ پارلیمان کو کرنا ہوگا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجنر بینچ نے بدھ کو ان درخواستوں کی سماعت کی۔یہ بھی پڑھیےعمران خان اور جہانگیر ترین نااہلی کیس کے اہم نکاتنااہلی کب تک، 62 ون ایف کی تشریح کے لیے عوامی نوٹس اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو کسی بھی رکن پارلیمان کو نااہل قرار دینے کے لیے ہر مقدمے کو الگ الگ دیکھنا ہوگا۔ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا جرم ثابت ہونے پر ہونے والی نااہلی تاحیات رہے گی یا پھر اس معاملے میں قانون سازی کی ضرورت ہے جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ پہلے اس معاملے میں جرم کی نوعیت کو بھی دیکھنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ چھوٹا جرم کرنے والے شخص کو سزائے موت نہیں سنائی جا سکتی۔

بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ جرم ثابت ہونے کی صورت میں جو نااہلی ہوگی کیا اس کے بعد نااہل قرار دیا جانے والا شخص آئندہ انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے۔اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدالت کواس معاملے میں مقدمات کی نوعیت کو بھی دیکھنا ہوگا۔اُنھوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کا تعین نہیں ہے اور پارلیمنٹ ہی اس کے تعین کے بارے میں قانون سازی کر سکتی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جب تک پارلیمان قانون سازی نہیں کرتی تو ڈیکلریشن موجود رہے گا۔ اشتر اوصاف کا کہنا تھا کہ آئین میں نااہلی کے ڈیکلریشن کو منسوخ کرنے کا طریقہ کار بھی موجود نہیں ہے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  اپنا سنجو بابا سب ٹھیک کر دینے کا

اُنھوں نے کہا کہ بعض اوقات آئین کی اس شق کے تحت ہونے والی نااہلی کسی بھی رکن پارلیمان کے فوت ہونے کے بعد بھی اس کی ذات پر داغ کی طرح چمٹی رہتی ہے جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو جرم میں سزا ہو جائے تو وہ بھی داغ ہی ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے گذشتہ سماعت کے دوران ریمارکس دیے تھے کہ آئین کے اس آرٹیکل کی تشریح کرکے مدت کا تعین کرنا ایک مشکل کام ہے تاہم عدالت اس کا فیصلہ ضرور دے گی۔عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت کے دوران متعدد وکلا کو عدالتی معاون بھی مقرر کیا تھا جن میں عاصمہ جہانگیر بھی شامل تھیں۔