61

میانمار میں فیس بک کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز مہم چلائی گئی

جنیوا: اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میانمار میں فیس بک کے ذریعے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا کام لیا گیا جس کے نتیجے میں تشدد کی لہر میں اضافہ ہوا۔
میانمار میں مسلم نسل کشی کی تحقیقات کرنے والی اقوام متحدہ کی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس نے بنگلا دیش، ملائیشیا اور تھائی لینڈ میں موجود 600 روہنگیا مہاجرین کے انٹرویو کیے جن کی روشنی میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ دراصل یہ فیس بک تھا جس نے میانمار میں مسلمانوں کے خلاف جذبات کو بھڑکانے میں کلیدی کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کو ملک بدر ہونا پڑا اور ہزاروں افراد شہید ہوئے۔
تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ مرزوکی دروشمن نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر بدھ پرستوں کو روہنگیا مسلمانوں کے خلاف انتہاپسندی اور نفرت پر اکسایا گیا جو فسادات کی آگ بھڑکانے میں ایندھن کی طرح استعمال ہوئے۔ کمیٹی کے ایک رکن کا کہنا تھا کہ ’فیس بک بے لگام ہو گیا ہے۔
میانمار میں انسانی حقوق کی صورتحال کی نمائندہ خصوصی یانگ ہی لی نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ قوم پرست بدھ اپنے نظریات کے پرچار اور اقلیتوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کے لیے فیس بک استعمال کرتے ہیں ۔ اس سے میانمار میں مسلم کش فسادات کو ہوا ملی یہاں تک کہ سات لاکھ سے زائد افراد کو میانمار سے ہجرت کرنا پڑی۔
دوسری جانب فیس بک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نفرت آمیز مواد اور اشتعال انگیز پوسٹ کو ہٹانے کے لیے خودکار نظام وضع کردیا ہے تاہم اس کے باوجود کچھ اکاؤنٹس سے انتہا پسندانہ مواد شائع ہوتا رہا ہے۔
The post میانمار میں فیس بک کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز مہم چلائی گئی appeared first on ایکسپریس اردو.