68

مہلت

اس دنیا میں ہم مہلت کے منتظر کیوں رہتے ہیں؟
ہمارے بڑے بچے سب کل کے انتظار میں ہیں کہ جیسے کل خوشحال ھو گا۔ ھم ہر اچھا کام کل پر چھورتے ہیں۔ جیسے نماز کل سے پڑھیں گے، زکوٰة دے دیں گے، ان کی مدد کل کریں گے وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر ھم اپنے ارد گرد غور کریں تو ہم سب بہت سے اچھے کام بغیر کسی وجہ کے کل پر ڈال دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ کل اچھا ہو گا۔ اگر ہم آج محنت کریں گے تو کل خوشحال ھو گا۔ جو اقوام آج محنت کریں گی وہی اپنا کل محفوظ اور خوشگوار پائیں گی.
ایک مشہور مقولہ ہے
خدا نے اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود آپ اپنی حالت بدلنے کا
اپنی حالت کو بدلنے کے لیے آج سے کوشش کرنی پڑے گی پتہ نہیں کل ہو نہ ہو
کیونکہ جو ہے وہ آج ہے کل ایک چانس ہے پتہ نہیں ملے نہ ملے، کل کسی کے نصیب میں ہوتا ہے اور کسی کے میں نہیں ۔
اس لیے ہمیں کل کا منتظر نہیں آج کا معمار بننا ہے۔
اگر ہم ایمانداری سے تھوڑی محنت اور کریں اپنے ملک کی بقاء اور عزت کے لیے قربانی دیں تو وہ وقت دور نہیں جب کہہ سکے گے کہ آج کی قربانی نے کل کی قسمت بدلی۔
اللہ تعالٰی ہم سب کو قابل فخر محب وطن بنائے۔ آمین

برائے تبصرہ
[email protected]