58

‘مودی’ لو جہاد کے چکر میں

اس سے پہلے کہ کوئی غلط فہمی ہو یہ واضح کر دیں کہ یہاں ذکر انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کا نہیں بلکہ راجستھان سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان فیض مودی کا ہے جس کی محبتوں کی داستان پر ریاست کی ہائی کورٹ میں شنوائی ہو رہی ہے۔وضاحت اس لیے ضروری ہے کہ اسی ہفتے تمل ناڈو میں پولیس نے فیس بک پر نریندر مودی کے لیے نا زیبا زبان استعمال کرنے کے الزام میں ایک نوجوان کو گرفتار کیا ہے۔ محبت تو کوئی جرم نہیں (شرائط لاگو) لیکن پھر بھی لو جہاد کے اس دور میں احتیاط ہی بہتر ہے! موسم بدل رہا ہے اور سنا ہے کہ جیل میں جو کمبل دیے جاتے ہیں ان کی کوالٹی بھی زیادہ اچھی نہیں ہوتی۔ (لیکن اس کا مطلب یہ نہ سمجھا جائے کہ جیل کی انتظامیہ بدعنوان ہے، یہ کوئی الزام نہیں ہے بس کمبل شاید اس معیار کے نہ ہوں جس کی ہمیں عادت ہے)’آخر ہادیہ کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟آپ ہمیشہ اپنی بیٹی پر کنٹرول نہیں رکھ سکتے: انڈین سپریم کورٹ’لو جہاد’ اب بی جے پی کی باقاعدہ پالیسی؟’لَوجہاد’ پر ہندو قوم پرستوں کی ناراضگیآپ سوچیں گے کہ محبتوں کی داستانوں کو انصاف کے ترازو میں کیوں تولا جا رہا ہے؟ لیکن انڈیا میں آج کل یہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔ کیرالہ میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر این آئی اے ان الزامات کی تفتیش کر رہی ہے کہ وہاں ایک منظم سازش کے تحت معصوم ہندو لڑکیوں کو لو جہاد کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ این آئی اے ایک خصوصی تفتشی ادارہ ہے جو ممبئی پر سنہ 2008 کے حملوں کے بعد دہشت گردی کے واقعات کی تفتیش کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔مطلب یہ کہ معاملہ ذرا سنگین ہے اور محبت کس سے کی جائے یہ فیصلہ کوئی آسان کام نہیں، اس راہ پر قدم ذرا سوچ سمجھ کر ہی اٹھایا جانا چاہیے۔ آپ شاید کہیں کہ بھائی محبت سوچ سمجھ کر نہیں کی جاتی بس ہوجاتی ہے لیکن یہ پرانے زمانوں کی باتیں ہیں جب محبت کی پاکیزگی کو قانون کی باریکیوں پر نہیں پرکھا جاتا تھا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  مشی گن :موٹل میں آتشزدگی، 6 افراد جاں بحق

اس کا اندازہ فیض مودی کو بخوبی ہوگیا ہوگا۔ انھوں نے ایک ہندو لڑکی سے شادی کی ہے، لڑکی کے گھر والے اس شادی کے خلاف تھے اور انھوں نے عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت نے اب ایک مقدمہ قائم کرنے اور ان الزامات کی تفتیش کرنے کا حکم دیا ہے کہ لڑکی کو شادی اور مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔لڑکی کے بھائی کا الزام ہے کہ یہ ‘لوجہاد’ کا کیس ہے۔ ان کے وکیل کا دعویٰ ہے کہ ایک وسیع تر سازش کارفرما ہے۔ لیکن لڑکی بالغ ہے اور پولیس نے اس کیس میں ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا تھا۔ جج صاحب کو یہ بات پسند نہیں آئی اور انھوں نے کہا ‘صرف دس روپیے کے ایک حلف نامے کی بنیاد پر یہ کیسے مانا جاسکتا ہے کہ مذہب کی تبدیلی قانون کے دائرے میں ہوئی ہے؟ اس طرح تو کل میں خود کو گوپال محمد کہہ سکتا ہوں۔’عدالت نے لڑکی کو خواتین کے ایک مرکز میں بھیج دیا ہے جہاں دونوں ہی خاندانوں میں سے کسی کو اس سے ملنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سپریم کورٹ نے بھی کیرالہ کی اس لڑکی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے جس کا کیس منظرعام پر آنے کے بعد این آئی اے کو تفتیش کا حکم دیا گیا تھا۔یہ شادیاں لڑکیوں کی مرضی سے ہوئی تھیں یا نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن جس رفتار سے ایسے واقعات منظرِ عام پر آ ر ہے ہیں اور جتنا وقت عدالتیں محبت کی ان داستانوں (شرائط لاگو) کی باریکیوں کو سمجھنے میں صرف کر رہی ہیں اس پر بہت سے لوگ کافی کامنٹس کر رہے ہیں۔واٹس ایپ پر ایک پیغام گردش کر رہا ہے جس میں کسی نے لکھا ہے کہ شادی ہوتے ہی ‘لو ختم’ اور ‘جہاد شروع’ ہو جاتا ہے۔ ایک دوسرے پیغام میں کہا گیا ہے کہ محبت اب اتنی پیچیدہ ہوگئی ہے کہ جہاد سے کم نہیں۔وہ دن شاید زیادہ دور نہیں جب محبت کرنے سے پہلے لڑکا اور لڑکی عدالت میں اپنا آدھاری کارڈ اور بائیومیٹرکس جمع کرایا کریں گے اور انھیں کسی مذہبی کتاب پر ہاتھ رکھ کر یہ حلف لینا ہوگا کہ ان کا پیار محبت (جسے کچھ لوگ ‘لو جہاد’ بھی کہتے ہیں) کی کسی وسیع تر سازش کا حصہ نہیں ہے۔