34

ملا منصور کے پاکستانی شناختی کارڈ کی تفتیش جاری

افغان طالبان کے سابق سربراہ ملا منصور اختر کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ ہونے کے حوالے سے تفتیش کئی ماہ بعد بھی نچلی سطح کے اہلکاروں تک محدود ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ برس 21 مئی کو ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کے پاس سے پاکستانی قومی شناختی کارڈ برآمد ہوا تھا جس کے بعد پاکستانی حکام نے اس حوالے سے تفتیش کا آغاز کیا تھا۔ اس انتہائی حساس معاملے میں اب تک چھ افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔ ان میں چمن کے سابق تحصیلدار سردار رفیق ترین، چمن میں لیویز کے ہی رسالدار میجر عزیز احمد خان، نادرا کے سابق اسٹسنٹ ڈائریکٹر غلام محمد بگٹی، چمن میں ڈپٹی کمشنر دفتر کے سپرنٹنڈنٹ شاعر احمد، کراچی میں نادرا کے اسٹنٹ سپروائزر رفعت اقبال اور چمن کے ملک محبوب خان شامل ہیں۔ ’کچلاک مدرسے کا کوئی ذکر نہیں‘پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کے اس حوالے سے ایک سوال کے جمعرات کو جمع کروائے گئے جواب میں وزیر داخلہ احسن اقبال نے ایوان بالا کو آگاہ کیا ہے کہ کوئٹہ کی عدالت گرفتار افراد کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔وزارتِ داخلہ کی جانب سے دیے گئے جواب میں موجود تفصیل کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نادرا کو ڈرون حملے کے بعد قومی شناختی کارڈ کا نمبر مزید معلومات کے حصول کے لیے دیا تھا۔ اس نمبر کے جائزے سے معلوم ہوا کہ یہ کارڈ محمد ولی ولد شاہ محمد نامی شخص کو جاری کیا گیا تھا۔ نادرا نے اس واقعے کی محکمانہ انکوائری کروائی تاکہ جعلی شناختی کارڈ جاری کرنے والے افسران کا تعین ہوسکے۔ اس انکوئری کے نتیجے میں کراچی کے علاقائی دفتر کے ڈپٹی اسٹسنٹ ڈائریکٹر فیصل الددین کو برخاست کر دیا گیا ہے۔وفاقی تحقیقاتی ادارے نے اس معاملے میں فارنرز ایکٹ اور دیگر دفعات کے تحت کوئٹہ کے کرائمز ایف آئی اے میں مقدمہ درج کیا جس کی سماعت عدالت کر رہی ہے۔کارروائی کا آغاز کیسے ہوا اس بارے میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی سرحدی مقام تفتان کی ایمیگریشن چوکی پر تعینات افسر عرفان عبدالنبی نے کچلاک کا دورہ کیا جہاں انہیں معلوم ہوا کہ ایک گاڑی (رجسٹریشن نمبر اے ایل ایل۔871 (سندھ)) کو ایک ڈرون نے ہدف بنایا اور گاڑی اور اس میں سوار دو افراد جل کر ہلاک ہوئے ہیں۔ موقع پر تحقیقات سے معلوم ہوا کہ لیویز اہلکاروں کو محمد ولی کے نام سے ایک پاسپورٹ (اے بی 6794622) اور شناختی کارڈ (نمبر 54400-0563462-9) ملے ہیں۔ اس کے بعد الیکٹرانک میڈیا میں نشر ہونے والی خبروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مارے جانے والوں میں ایک افغان شہری اور اس کا پاکستانی ڈرائیور محمد اعظم تھے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے مطابق گرفتار افراد کے علاوہ اسے تین مزید افراد کی تلاش ہے جو روپوش ہیں۔ ان میں ڈاکٹر فرخ احسان اور محمد ولی جن کے نام کا شناختی کارڈ تھا، بیوی بی بی شاہ مینہ شامل ہیں۔ حکام کے مطابق ان سب افراد نے محمد ولی (ملا اختر منصور) اور ان کے اہل خانہ کو پاکستانی شناختی کارڈ دلوانے میں مدد کی تھی۔ اس وقت گرفتار افراد کہاں ہیں، سرکاری بیان میں اس حوالے سے متضاد معلومات ہیں۔ بیان میں ایک جگہ کہا گیا ہے کہ یہ تمام زیرِحراست ہیں اور کوئٹہ کی ضلعی جیل میں رکھے گئے ہیں۔ مگر بیان میں ہی دوسری جگہ لکھا ہے کہ تمام گرفتار ملزمان کو عدالتوں نے ضمانت دی ہوئی ہے۔ملا اختر منصور کے پاس پاکستانی سرکاری دستاویزات پر کافی شور اٹھا تھا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ ان کا ولی محمد کے نام سے ووٹ تک بنا ہوا تھا۔ شناختی کارڈ میں درج ان کی رہائش کا پتہ کراچی میں بسم اللہ ٹیریس میں ایک فلیٹ کا تھا۔ لیکن اب تک کی تحقیقات سے ایک سوال اب بھی جواب طلب ہے کہ آیا کوئی بھی شخص باآسانی شناختی کارڈ نچلی سطح کے اہلکاروں سے گٹھ جوڑ کے ذریعے بناسکتا ہے، اعلی حکام کو خبر ہوئے بغیر؟ اب تک کی سرکاری تحقیات سے تو بظاہر ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔