34

ملائیشیا کی مس یونیورس کا غیر معمولی لباس

ملائیشیا نے اس سال مس یونیورس کے مقابلے میں حصہ لینے والی خاتون کے لیے ایک غیر معمولی لباس بنایا ہے جو ملک کے قومی کھانے ناسی لیمک کی عکاسی کرتا ہے۔مقامی منتظمین نے منگل کو ایک ایسے گاؤن کی نمائش کی ہے جسے سامنتھا کیٹی جیمز مس یونیورس کے فائنل سیکشن کے دوران پہنیں گی۔یہ مقابلہ رواں ماہ کے آخر میں لاس ویگاس میں منعقد ہو گا۔ اس لباس نے ملائیشیائی افراد کو خوش اور حیران کر دیا ہے۔ یہ بھی پڑھیےبرطانیہ: ‘ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرا نام اور لباس نوکری ملنے میں حائل ہے”ایئرلائن مخصوص سائز کا لباس پہننے کا حکم نہیں دے سکتی’ناسی لیمک کیا ہے؟

ناسی لیمک بنیادی طور پر ناریل کے دودھ اور چاول کے علاوہ مختلف اجزا کا مرکب ہے، اس میں تلے ہوئے انڈے، کھیرے کے سلائیس، چھوٹے تلی ہوئی اینچیوس، مونگ، اور سوبل کا پیسٹ شامل ہے۔یہ ڈش جس کا مالائی زبان میں مطلب ‘چکنے چاول’ ہیں عام طور پر کیلے کے پتوں میں لپٹی ہوتی ہے اور اسے اکثر ناشتہ کے لیے کھایا جاتا ہے۔آپ اسے کیسے پہنیں گے؟سامنتھا کیٹی جیمز نے منگل کو بظاہر بہت احتیاط کے ساتھ اس لباس کو پہن کر کوالالمپور میں پریس کانفرنس کی۔ انھوں نے اپنے گاؤن سے منسلک کیلے کے پتوں کو کچلے جانے سے بچایا۔منتظمین نے وہاں اس لباس کو متعارف کروایا جس کو بنانے میں چار سو سے زیادہ گھنٹے لگے۔

مس یونیورس کے مقابلے میں قومی لباس کے مقابلے کو دل لبھانے والے لباس کے طور پر جانا جاتا ہے لیکن ملائیشیا میں یہ نظارہ فیس بک پر براہ راست دکھایا جا رہا ہے جہاں سے یہ واپس نہیں لیا جا سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کباب اور کوبوب کی بحث کے ساتھ ساتھ ناسی لیمک کو برابر پسند کیا جاتا ہے اور یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اسے علاقے میں ایک سے زائد ملک پسند کرتے ہیں۔سنگاپور اور انڈونیشیا کے بعض حصوں نے اس ڈش کی مالکیت کا دعویٰ کیا ہے جس کا تخلیقی طور پر حالیہ برسوں میں از سرِ نو احیا ہوا ہے۔