25

مسلسل ذہنی تناؤ بینائی کے لیے بھی نقصان دہ ہوتا ہے، تحقیق

جرمنی: دماغ جسم کا بادشاہ ہے اور اس کے اثرات پورے جسم پر پڑتے ہیں۔ اگرچہ فکر، پریشانی اور ذہنی تناؤ (اسٹریس) کے دماغ پر انتہائی مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں لیکن اب ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ عارضے بصارت کےلیے بھی انتہائی مضر ہوتے ہیں اور موتیا سمیت آنکھوں کی بینائی تک چھین سکتے ہیں۔
اس سے قبل بھی کئی تحقیقات سے یہ بات سامنے آتی رہی ہیں کہ ذہنی تناؤ بینائی میں نقصان کی براہِ راست یا بالواسطہ طور پر وجہ بن سکتا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹروں سے کہا گیا ہے کہ وہ پوری کوشش کریں کہ کسی طرح مریض کو پہلے ذہنی دباؤ سے چھٹکارا دلایا جاسکے۔
یورپین ایسوسی ایشن فار پریڈکٹیو، پرونٹیوو اینڈ پرسنلائزڈ میڈیسن (ای پی ایم اے) جرنل میں شائع شدہ ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ذہنی تناؤ کی تباہ کاریوں میں اب نظر کی کمزوری، موتیا، سبزموتیا، عمرکے ساتھ ساتھ میکیولر ڈی جنریشن اور بصارت کے کھونے کو بھی شامل کرنا ہوگا۔
جرمنی میں مینڈبرگ یونیورسٹی کے پروفیسر برنارڈ سیبل اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ ذہن پر مسلسل بوجھ اور دباؤ سے کارٹیسول ہارمون بڑھ جاتا ہے اور اس کا اثر آنکھوں کے دو طرح کے ذیلی اعصابی نظاموں پر ہوتا ہے جن میں ویسکیولر اور سمپیتھٹک نروس سسٹمز شامل ہیں۔
یہ دونوں نظام جب متاثر ہوجائیں تو آنکھوں کی نظر پر اثر ڈالتے ہیں۔ اس سے عام موتیا اور سبز موتیا کی کیفیت پیدا ہوتی ہے جبکہ اسی کے ساتھ آپٹک نیوروپیتھی بھی جنم لیتی ہے اور بصارت خراب ہوتی رہتی ہے۔
اس تحقیق کےلیے سیکڑوں مطالعوں اور تحقیقی مقالہ جات کا جائزہ لیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر آنکھ میں کوئی عارضہ ہو تو ذہنی تناؤ  اسے مزید بگاڑ دیتا ہے۔ پھر آنکھ کی کمزوری کئی پیچیدہ امراض کو جنم دیتی ہے جن میں ذیابیطس نیورو پیتھی، بصری نیوروپیتھی، سبزموتیا (گلاکوما) اور دیگر امراض شامل ہیں۔ اگر اس مرحلے پر ذہنی تناؤ کم ہوجائے تو مریض کو اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر برنارڈ اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ ڈاکٹر آنکھوں کے مریضوں میں دباؤ اور پریشانی کی کیفیت کا ضرور پوچھیں اور انہیں رہنمائی دیں تاکہ وہ اس ذہنی کیفیت سے باہر آسکیں کیونکہ اس سے بصارت کو بہتر بنانے میں بہت مدد ملتی ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر کو مریض کا حوصلہ بڑھانا چاہیے اور مریض جو معلومات مانگے اس کی رہنمائی ضرور کی جائے۔
The post مسلسل ذہنی تناؤ بینائی کے لیے بھی نقصان دہ ہوتا ہے، تحقیق appeared first on ایکسپریس اردو.