97

مرغا بننے کی سزا


(ذرائع: صداقت رپورٹر) اس میں کوئی شک نہیں کہ فن صرف تخلیق یا انسانی روح کو تسکین دینے کا ہی نام نہیں بلکہ آرٹ انقلاب، مزاحمت، احتجاج کا پیغام دینے کا بھی ذریعہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں فن اور فنکار بھی اپنے پیغامات اپنے اپنے فن پاروں کے ذریعے لوگوں تک پہنچانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔
دراصل فن کا جنم تصورات، خیالات، خواہشات، بے چینی، درد اور خوشی کے جذبات سے ہوتا ہے۔ جب کسی ایک فنکار کے تصورات، کیفیات یا جذبات کو شکل ملتی ہے تو ہی فنکار کے روح کو تسکین پہنچتی ہے، کبھی کبھی کسی ایک فنکار یا تخلیق کار کے خیال یا تصور کی روح کو کوئی دوسرا فنکار اپنے تخلیق کردہ فن کے جسم میں قید کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور یوں ایک خیال کو ایک سے زائد شکلوں میں اظہار نصیب ہوجاتا ہے۔

کچھ ایسی ہی کوشش سید جمال شاہ نے بھی کی ہے جنہوں نے فیض احمد فیض کی ایک نظم، نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں، کو اپنے فن کے ذریعے پیش کیا ہے، انہوں نے اپنے آرٹ ورک کا نام سیچوئیشن 101 رکھا ہے۔

سید جمال شاہ کے آرٹ ورک کی نمائش بینال ٹرسٹ کے تحت 22 اکتوبر سے 5 نومبر2017 تک کراچی کے فرئیر ہال میں جاری رہیں، اس کے ساتھ ساتھ دیگر مختلف موسیقار، فنکار اور شاعر اپنی تخلیق پیش کرنے میں مصروف رہے.