41

ماں کے بجائے ساتھیوں سے بولنا سیکھنے والے ننھے جاندار

جب بھی کوئی نئی حیات اس دنیا میں آتی ہے تو اس کا سب سے بڑا سہارا ماں ہوتی ہے۔ چاہے وہ انسان ہوں، جانور یا کوئی حشرات الارض۔ جیسے جیسے یہ ننھی حیات بڑی ہوتی جاتی ہے یہ سب کچھ اپنی ماں سے سیکھتی ہے جیسے چلنا، بولنا، اور بعد ازاں عادات و طور طریقے۔
لیکن آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ اس دنیا میں ایک جاندار ایسا بھی ہے جو دنیا میں آنے کے بعد اپنی ماں سے بولنا نہیں سیکھتا بلکہ اپنے ساتھیوں سے بولنا سیکھتا ہے۔
وہ جاندار چمگادڑ ہے جس کے ننھے بچے الٹے لٹکے لٹکے اپنے آس پاس موجود دیگر چمگادڑوں سے بولنا سیکھتے ہیں۔

پی ایل او ایس بائیولوجی نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیقاتی مقالے میں کہا گیا کہ مختلف ممالک میں پائی جانے والی چمگادڑوں کے لہجے میں بھی معمولی سا فرق ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آس پاس کے ماحول اور دیگر افراد سے سیکھنے کی صلاحیت انسانوں میں تو موجود ہے تاہم انسانوں کے علاوہ دیگر ممالیہ جانوروں میں اس صلاحیت کی موجودگی پہلی بار سامنے آئی ہے۔

تحقیق میں کہا گیا کہ اگر دو مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے چمگادڑوں کو ایک ساتھ رکھا جائے تو عین ممکن ہے کہ نئی پیدا ہونے والی چمگادڑ اپنے ملک کے بجائے دوسرے ملک کی چمگادڑ کی زبان بولنے لگے۔
اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔
Comments comments

اس خبرکوبھی پڑھیں:  پوری دیوار کو ٹچ اسکرین بنانے والا پینٹ

Recommended for you