37

لاپتہ افراد کے اہلخانہ کے شور شرابے پر چیف جسٹس اٹھ کر چلے گئے

 کراچی: لاپتہ افراد کے اہلخانہ کے شور شرابے پر چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار سماعت چھوڑ کر کمرہ عدالت سے باہر چلے گئے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں لاپتا افراد سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت ہوئی تو لاپتا افراد کے اہلِ خانہ کی بڑی تعداد سپریم کورٹ کے باہر جمع ہوگئی۔ پولیس نے لاپتا افراد کے اہلِ خانہ کو سپریم کورٹ کے اندر جانے سے روک دیا، جس پر مظاہرین نے پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

یہ بھی پڑھیں: لاپتا افراد کیس، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے صوبائی سربراہان طلب

خواتین اور بچوں سمیت شہریوں نے لاپتہ افراد کی تصاویر کے ہمراہ احتجاج کیا اور اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے دہائیاں دیں۔ سماجی کارکن جبران ناصر بھی اظہارِ یکجہتی کے لئے اس موقع پر موجود تھے۔ لاپتہ افراد کے گھر والے زار و قطار رونے لگے اور فریاد کی کہ اگر ہمارے پیارے مرگئے ہیں تو ہمیں بتایا جائے، ہمارے بچے کئی سال سے لاپتہ ہیں ہمیں ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں، ہر انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا، اب ہم کس کے در پر جائیں۔

سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے ہر لاپتا شخص کے ایک ایک رشتے دار کو عدالت میں بلالیا۔ درخواست گزار نیلم نے عدالت کے روبرو پیش ہوکر بتایا کہ اس کے والد 14 ماہ سے لاپتا ہیں۔ اس دوران دیگر خواتین نے زار و قطار رونا شروع کر دیا جس پر کمرہ عدالت میں شور شرابہ اور چیخ و پکار شروع ہوگئی۔ اہل خانہ نے الزام لگایا کہ ان کے پیارے خفیہ اداروں کے پاس ہیں۔ چیف جسٹس نے شہریوں کو خاموش کرانے کا حکم دیا تاہم وہ خاموش نہیں ہوئے جس پر چیف جسٹس کوئی حکم نامہ جاری کیے بغیر اٹھ کر چلے گئے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  ٹرمپ کے بیان پر سینیٹ اسمبلی سے قراردادیں لانے پر اتفاق - ایکسپریس اردو

واضح رہے کہ گزشتہ روز چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے لاپتہ افراد کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ کے ساتھ ساتھ ایم آئی، آئی ایس آئی اور آئی بی کے صوبائی سربراہان کو معاملے پر جواب جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

The post لاپتہ افراد کے اہلخانہ کے شور شرابے پر چیف جسٹس اٹھ کر چلے گئے appeared first on ایکسپریس اردو.