27

قدیم چینی مقبرے سے نئی قسم کے لنگور کے دانت دریافت

بیجنگ: سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ چین کے شاہی خاندان کے قدیم مقبرے سے دریافت ہونے والے بندر کے دانت دراصل ناپید ہوجانے والی گوریلا کی ایک نسل کے ہیں، یہ نسل اس سے قبل کبھی دریافت نہیں ہوئی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق وسطی چین کے صوبے شآن شی میں واقع 2 ہزار 3 سو سال پرانے مقبرے کی کھدائی کے دوران لنگور کے دانت اور دیگر جانوروں کی ہڈیاں دریافت ہوئی تھیں۔ لنگور کے دانت کا فرانزک ٹیسٹ کیا گیا جب کہ خصوصی ٹیسٹ کے ذریعے ڈی این اے سیمپل بھی لیا گیا جس سے انکشاف ہوا کہ یہ دانت لنگور اور گوریلا کی نئی قسم کے ہیں جو اس سے قبل کبھی دریافت نہیں ہوئی۔
زولوجیکل سوسائٹی آف لندن نے لنگور کی اس نئی قسم کو Junzi imperialis  کا نام دیا ہے جو انسانوں کا براہ راست شکار بن گئی۔ بندر کی  یہ قسم بھی بغیر دم والے بندر کی اقسام میں سے ایک ہے جو انسانوں کے ہاتھوں ناپید ہوگئیں۔ انسان اپنے ہی ہاتھوں اپنے ماحول کو خراب کر رہا ہے جو خود اس کی تباہی کا باعث بنے گا۔

لنگور اور گوریلا کی اس نئی قسم کے دانت اور ہڈی کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ جانور چین کے قدیم شاہی خاندان کا پالتو لنگور ہوگا کیوں کہ چین میں گوریلا اور لنگور کو خصوصی اہمیت حاصل ہوتی ہے اور انہیں پالنا پرتعیش عمل سمجھا جاتا تھا۔
The post قدیم چینی مقبرے سے نئی قسم کے لنگور کے دانت دریافت appeared first on ایکسپریس اردو.