27

فٹبال ورلڈکپ میں بڑی ٹیمیں دبدبہ برقرار نہ رکھ پائیں

فٹبال ورلڈ کپ سے قبل فیفا کی نئی عالمی رینکنگ میں دفاعی چیمپئن جرمنی کی ٹیم ٹاپ پوزیشن پر تھی، برازیل دوسرے، بیلجیئم تیسرے، پرتگال چوتھے، ارجنٹائن پانچویں، سوئٹزرلینڈ چھٹے اور فرانس ساتویں، پولینڈ آٹھویں اور سابق عالمی چیمپئن سپین دسویں نمبر کی ٹیم کا اعتماد لئے میگا ایونٹ میں شرکت کیلئے آئے، نویں پوزیشن کے حامل ملک چلی کا سفر کوالیفائرز میں ہی تمام ہوگیا تھا۔
روس 70ویں پوزیشن کے ساتھ کم تر رینکنگ کی حامل ٹیم کے طور پر میدان میں اترا، شائقین بڑے سٹارز سے مزین بڑی ٹیموں سے شاندار کارکردگی کی توقع کرتے ہوئے ان کا سفر آسانی سے جاری رہنے کی توقع کررہے تھے، پہلے راؤنڈ کیلئے بنائے جانے والے آٹھوں گروپس بھی ایسے نہیں تھے کہ ٹاپ رینک ٹیموں کو پیش قدمی جاری رکھنے میں مشکلات پیش آتیں۔ جرمنی، برازیل، فرانس، ارجنٹینا سبھی مختلف گروپس میں تھے۔
صرف گروپ ’’بی‘‘ میں سپین کے ساتھ پرتگال، ایران اور مراکش ہونے کی وجہ سے سخت مقابلے کا امکان ظاہر کیا جارہا تھا، ایونٹ کا آغاز ہوا تو حیران کن نتائج سامنے آنے لگے جن کا سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا۔
افتتاحی روز گروپ ’’اے‘‘ میں شامل میزبان روس نے سعودی عرب کو 5-0سے شکست دے کر حریفوں پر دھاک بٹھائی، دوسرے روز اسی گروپ کے ایک میچ میں یورا گوئے نے محمد صلاح کے بغیر میدان میں اترنے والی مصری ٹیم کی سخت مزاحمت 1-0سے کچل دی، یہ نتیجہ توقعات کے مطابق تھا لیکن یوراگوئے کو یہ فتح آسانی سے حاصل نہیں ہوئی، روس کو اپنے دوسرے میچ میں مصر کو زیر کرنے میں زیادہ دشواری نہیں ہوئی، پہلے ہاف میں افریقی ٹیم نے مزاحمت کی لیکن دوسرے میں دفاع میں پڑنے والی دراڑوں کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے میزبان سائیڈ نے پری کوارٹرفائنل میں رسائی حاصل کرلی۔
محمد صلاح کا پنالٹی پر گول بھی ٹیم کو 2-1کی شکست سے نہیں بچا سکا، یوراگوئے نے سعودی عرب کا 1-0 سے شکار کرتے ہوئے اگلے مرحلے میں جگہ یقینی بنائی، پہلے دونوں معرکوں میں ایک بھی فتح نہ حاصل کر پانے والی سعودی عرب اور مصر کی ٹیموں کا سفر تمام ہوا۔
گروپ ’’بی‘‘ میں ایران نے مراکش کے خلاف واحد گول سے فتح کے ساتھ مہم کا پر اعتماد آغاز کیا لیکن اسی روز ایک دلچسپ معرکے میں سپین کی ٹیم برتری حاصل کرنے کے باوجود فتح سے دور رہی، کرسٹیانو رونالڈو نے نہ صرف پرتگال بلکہ دنیا بھر موجود اپنے پرستاروں کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے ہیٹ ٹرک سکور کی، کھیل ختم ہونے سے صرف 3منٹ اور 30 سیکنڈز قبل فری کک پر ان کے گول نے شائقین کے دل جیت لئے ،اگلے معرکے میں مراکش کو زیر کرنے کیلئے سخت محنت کرنا پڑی۔
اس بار بھی کرسٹیانو رونالڈو ٹیم کے کام آئے اور فیصلہ کن گول سکور کیا، پہلی فتح کے متلاشی سپین کو ایران کے خلاف میچ میں یہ موقع مل ہی گیا لیکن پہلے سخت مزاحمت اور پھر ایک گول کے خسارے میں جانے کے بعد جارحانہ کھیل کی وجہ سے ایشیائی ٹیم نے سابق چیمپئن ٹیم کی ناک میں دم کر دیا۔ آف سائیڈپر ریویو لینے کا فیصلہ نہ کیا ہوتا تو سپین کا یہ میچ بھی برابر ہوجاتا، ایرانی ٹیم نے زبردست کارکردگی پیش کرتے ہوئے روشن مستقبل کی نوید سنائی۔
گروپ ’’سی‘‘ میں فرانس نے آسٹریلیا پر 2-0 سے غلبہ پایا، پھر پیرو پر بھی 1-0سے ہاتھ صاف کئے، ڈنمارک نے پیرو کے خلاف واحد گول کی بدولت کامیابی حاصل کی، آسٹریلیا کے خلاف مقابلہ 1-1 سے برابر رہا، دونوں ٹیموں نے اگلے مرحلے میں رسائی کے امکانات روشن کئے۔
گروپ ’’ڈی‘‘ کے میچز میں حیران کن نتائج دیکھنے میں آئے۔ ارجنٹائن کو آئس لینڈ نے ناکوں چنے چبواتے ہوئے مقابلہ 1-1سے برابر کیا، الفرڈ فن بوگیسن نے اپنے ملک کی جانب سے ورلڈکپ کا پہلا گول کرنے کا اعزاز حاصل کیا، دوسری طرف کرسٹیانو رونالڈو کے ہم پلہ قرار دیئے جانے والے سٹار کھلاڑی لیونل میسی ناکام رہے، انہوں نے پنالٹی ضائع کرتے ہوئے بھی اپنے پرستاروں کو مایوس کیا، رہی سہی کسر کروشیا نے پوری کردی۔
نائیجیریا کو 2-0 سے زیر کرنے والی ٹیم نے ارجنٹائن کو بھی چاروں شانے چت کرتے ہوئے مسلسل دو فتوحات کے ساتھ اگلے مرحلے میں رسائی حاصل کرلی، لیونل میسی ایک بار پھر ناکام رہے، ارجنٹائن نے حریف ٹیم کی شاندار کارکردگی پر بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر فاؤل پلے اور جھگڑوں سے بھی گریز نہیں کیا، میسی بھی الجھتے نظر آئے، نائیجیریا نے احمد موسیٰ کے 2گولز کی بدولت کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایونٹ میں بقاکی جنگ جیتی اور ارجنٹائن کو گروپ میں آخری پوزیشن پر دھکیل دیا۔
گروپ ’’ای‘‘ میں بھی سب سے بڑی ٹیم برازیل کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی، اولین معرکے میں ہی 5بار کے چیمپئن ملک کی ٹیم سوئٹزرلینڈ کو زیر کرنے میں ناکام رہی، مقابلہ 1-1 سے برابر ہونے کے بعد کوسٹا ریکا کے خلاف میچ میں بھی مقررہ وقت میں برازیل کو گول کرنے میں کامیابی نہ حاصل ہوئی تو ایونٹ سے اخراج کے خدشات نظر آنے لگے لیکن 6منٹ کے انجری ٹائم میں فلیپی کوٹنہو اور نیمار نے گول سکور کرتے ہوئے خطرہ ٹال دیا۔
دوسری جانب برازیل سے میچ میں شاندار کارکردگی سے حوصلہ پانے والی سوئس ٹیم نے سربیا کو 2-1 سے ہرا کر پیش قدمی جاری رکھی، پہلے ہاف میں خسارے میں جانے کے بعد سوئٹزرلینڈ نے دوسرے میں مقابلہ برابر کرنے کے بعد آخری لمحات میں گرینٹ ژاکا کے فیصلہ کن گول کی بدولت فتح حاصل کی، سربیا اور کوسٹیکا کے ہاتھوں شکستوں کی وجہ سے کوسٹاریکا کا سفر تمام ہوچکا۔
گروپ ’’ایف‘‘ کا پہلا میچ ہی دھماکہ خیزثابت ہوا، میکسیکو نے دفاعی چیمپئن جرمنی کے اوسان خطا کرتے ہوئے 1-0سے فتح کے ساتھ دنیائے فٹبال کو حیرت میں مبتلا کردیا، عالمی نمبر ون ٹیم کے فاروڈز سخت کوشش کے باوجود میکسیکو کا دفاعی حصار توڑنے میں ناکام رہے، میگا ایونٹ کے تیسرے روز ہی ہونے والے اس بڑے اپ سیٹ سے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ فیورٹس کیلئے بھی اس بار ٹائٹل تک کا سفر آسان نہیں ہوگا، سوئیڈن نے جنوبی کوریاکی مزاحمت 1-0 سے کچل کر فاتحانہ آغاز کیا اور جرمنی کو شش و پنج میں مبتلا کر دیا، اس گروپ کی صورتحال ہفتے کو شیڈول میچز میں واضح ہونا تھی۔
گروپ ’’جی‘‘ میں بلجیئم کی ٹیم اپنے اولین میچ میں بھرپور فارم میں نظر آئی اور پاناما کو باآسانی 3-0 سے زیر کرلیا، تیونس نے انگلینڈ کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے سخت مزاحمت کی، ہیری کین نے بڑی حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوگول داغ کر 2-1 سے فتح میں اہم کردار ادا کیا، اس مقابلے میں بھی ایک بڑا برج الٹنے کے قریب تھا لیکن قسمت نے تیونس کا ساتھ نہیں دیا، گروپ ’’جی‘‘ کی صورتحال بھی ٹیموں کے دوسرے میچز مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہو گی، تاہم ایک بات طے ہے کہ ماضی کا ریکارڈکچھ بھی ہو، کوئی بڑی ٹیم دوسرے کو کمزور حریف خیال کرنے کی غلطی نہیں کرنے کی گنجائش نہیں رکھتی۔
گروپ ’’ایچ‘‘ میں جاپان نے کولمبیا کا 2-1 سے شکار کیا، سینگال نے پولینڈ کو اسی مارجن سے زیر کر لیا، اس پول کے مزید میچز کا نتیجہ سامنے آنے پر واضح ہوگا کہ جاپان اگلے مرحلے تک رسائی حاصل کرتے ہوئے ایونٹ میں ایشیائی خطے کی نمائندگی برقرار رکھنے میں سرخرو ہوتا ہے یا نہیں۔
دنیا بھر کے شائقین کئی ملکوں کی ٹیموں کو سٹار فٹ بالرز کی وجہ سے پہچانتے ہیں، تاہم زیادہ تر بڑے نام اپنے کارکردگی کا معیار برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لیگز میں کھیلتے ہوئے کلب ٹیموں کے مالکان بہترین کمبی نیشن تشکیل دینے کیلئے مہنگے ترین کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں، وہاں کئی فارورڈز کی کارکردگی دوسرے ملکوں سے تعلق رکھنے والے مڈفیلڈرز کی بھرپور سپورٹ کی مرہون منت ہوتی ہے۔
سال کا بیشتر حصہ اکٹھے کھیلنے کی وجہ سے باہمی تال میل بھی اچھا بن جاتا ہے لیکن قومی ٹیموں کے تربیتی کیمپس میں یہ مقاصد حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے، لیگز کے حلیف کئی کھلاڑی ورلڈکپ میں حریف بنتے ہیں تو ایک دوسرے کی خوبیوں اور خامیوں سے واقف ہوتے ہیں، فی الحال رونالڈو ان مسائل کے باوجود اپنی افادیت ثابت کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، لیونل میسی اور کئی دیگر سٹارز ابھی تک ردھم میں آنے کی کوشش کررہے ہیں، تاہم ان کی فارم میں واپسی سے قبل ہی ٹیموں کو ایونٹ سے اخراج کا صدمہ جھیلنا پڑ گیا تو ان کی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوگی۔
 
The post فٹبال ورلڈکپ میں بڑی ٹیمیں دبدبہ برقرار نہ رکھ پائیں appeared first on ایکسپریس اردو.