49

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے وفد کی آئندہ ہفتے پاکستان آمد’

دہشت گردی اور مالی وسائل کی روک تھام سے متعلق بین الاقوامی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ‘ ایف اے ٹی ایف ‘ سے منسلک  گروپ کا ایک وفد پاکستان کی حکومت کی طرف سے دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی فراہمی اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدمات کا جائزہ لینے کے لیے آئندہ ہفتے اسلام آباد کا دورہ کرے گا۔

پاکستان کی وزارت خزانہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ایشیا پیسیفک جوائنٹ گروپ کے وفد کے پاکستان میں قیام کے دوران وزارت خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی طرف سے تیارہ کردہ رپورٹ سے ایشیا پیسفک گروپ کے وفد کو آگاہ کیا جائے گا .

واضح رہے کہ جون کے آخری ہفتے میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل سے متعلق بین الاقوامی نگران ادارے، ‘ایف اے ٹی ایف’ نے باضابطہ طور ان ملکوں کی فہرست میں شامل کر دیا تھا جنھوں نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے مالی وسائل کی روک تھام کے مناسب اقدامات نہیں کیے ہیں۔

تاہم، ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کے ساتھ مل ایک 26 نکاتی ایکشن پلان طے کیا جس پر مکمل طور پر ایف اے ٹی ایف کے اطمینان کے ساتھ عمل کرتے ہوئے پاکستان گرے لسٹ سے نکل سکتا ہے۔

ماہر اقتصادیات اور پاکستان کے سابق مشیر خزانہ سلمان شاہ نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نگران حکومت کی وزیر خزانہ نے رواں سال جون میں پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں شرکت کی تھی اس لیے ان کے بقول پاکستان کا دورہ کرنے والے وفد کو پاکستان کی طرف سے اب تک کیے جانے والے اقدامات سے بہتر انداز میں آگاہ کر سکیں گی۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  علاقائی تنازعات میں پاکستان کا کردار غیر جانبدارانہ ہے: سرتاج عزیز

” نگران حکومت نے جو بھی اقدامات اب تک کیے ہیں ان کے بارے میں بتا دیا جائے لیکن مجھے کوئی زیادہ بات چیت کا امکان نظر نہیں آتا ہےجب تک نئی حکومت مکمل طور پر تشکیل نہیں پا جاتی ہے۔”

پاکستان کی حکومت نے حالیہ مہینوں میں بینکوں کے ذریعے شدت پسند تنطیموں کے لیے مالی وسائل کی ترسیل کو روکنے کے کئی اقدام کیے ہیں تاہم سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ حکومت کو ان کالعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی کے لیے موثر طریقہ کار وضح کرنا ہو گا جو نام بدل کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔

” کالعدم تنظیموں کو بنکنگ سسٹم سے آؤٹ کر دیا گیا ہے لیکن جب وہ نام بدل کر کام کرتی ہیں اور اگر اقوام متحدہ ان پر بھی پانبدی عائد کرتی ہیں تو پھر پاکستان کو ان پر کارروائی کرنی پڑے گی۔ تو میرے خیال میں پاکستان اس حوالے سے اسلام آباد کا دورہ کرنے والے وفد کو اس حوالے سے پاکستان کی طرف سے کیے گئے اقدمات سے آگا ہ کر دیا جائے گا۔”

دریں اثنا مقامی میڈیا پر سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے سرابرہ اور پاکستان کے آئندہ ممکنہ وزیر اعظم عمران خان نے ممتاز ماہر اقتصادیات اور صنعت کار عبدالرزاق داؤد کو اپنی متوقع حکومت میں مشیر برائے اقتصادی امور  مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ عبدالرزاق داؤد پاکستان کے سابق فوجی سربراہ پرویز مشرف کی حکومت میں بطور وزیر تجارت کام کر چکے ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ عبدالرزاق داؤود نے تحریک انصاف کی پیش کش قبول کی ہے یا نہیں۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  یہ ملاقات نہیں ہو سکتی