23

عراقی شہر موصل میں 1200 لاوارث لاشیں دفنانے والے 30 نوجوان رضاکار

 بغداد: تہذیب اور علم کی سرزمین عراق کے کئی شہر اب مٹی کا ڈھیر بن چکے ہیں اور موصل جیسے بڑے شہر میں بھی ملبے تلے لاشیں اٹھانے والا کوئی نہیں۔ اس صورتحال کے تحت شہر میں 30 رضاکاروں نے اپنی مدد آپ کے تحت مردہ افراد کو جمع کرکے دفنانے کی ذمے داری اٹھالی ہے۔

30 مردوزن پر مشتمل یہ گروہ اب تک 1200 سے زائد لاشیں جمع کرچکا ہے۔ یہ شہر جنگجو گروہ داعش کی تباہ کاریوں سے اب بھی زخمی ہیں جنہیں نو ماہ قبل اسی شہر میں شکست دی گئی تھی لیکن اس جنگ کے زخم اب بھی تازہ ہیں اور ہر روز یہاں سے شہریوں اور داعش کے دہشت گردوں کی لاشیں ملی رہی ہیں۔

موصل کے پرانے حصوں میں اب تک دونوں فریقین کی ہزاروں لاشیں برآمد ہوچکی ہیں۔ یہاں المائدن کا علاقہ ایک ہولناک تصویر پیش کررہا ہے جہاں داعش اور عراقی افواج کے درمیان آخری معرکہ پیش آیا تھا۔

پھر جہازوں کی بمباری سے ہونے والی تباہی میں بھی عام افراد مارے گئے جن کی باقیات دریافت ہوتی رہتی ہیں۔
کسی خاص تربیت اور تجربے کے بغیر یہ دردمند نوجوان صبح سویرے لاشوں کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں کیونکہ اس وقت ان کی بو شدید نہیں ہوتی۔ چار افراد سے شروع ہونے والا یہ قافلہ اب سوشل میڈیا کی باعث 30 باقاعدہ افراد پر مشتمل ہے لیکن ان کا کام بہت کٹھن اور مشکل ہے۔

حکومت داعش دہشت گردوں کی لاشیں ایسے ہی چھوڑ دیتی ہے اور ان کے بدن پر بسا اوقات خود کش جیکٹ اور ہتھیار بندھے ہوتے ہیں جنہیں الگ کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔  اس کے علاوہ جگہ جگہ دبی بارودی سرنگیں بھی اس کام کو ایک خوفناک حادثے میں بدل سکتی ہیں۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  پرتھوی شا: پانچ میچوں میں چار سنچریاں

ان میں سے بعض نوجوانوں کی عمر صرف 18 برس ہے اور یہ رسیوں کی مدد سے لاشوں کو باہر نکالتے ہیں۔ اب بھی موصل دنیا بھر میں ہتھیاروں اور بارود سے آلودہ ترین خطہ ہے جسے محفوظ بنانے کے لیے برسوں کی توجہ اور محنت درکار ہے۔
The post عراقی شہر موصل میں 1200 لاوارث لاشیں دفنانے والے 30 نوجوان رضاکار appeared first on ایکسپریس اردو.