44

طیبہ تشدد کیس: ذیلی عدالت کے سابق جج اور اُن اہلیہ کو سزا

وفاقی دارالحکومت میں ایک کم عمر گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد سے متعلق مقدمے میں نامزد ذیلی عدالت کے سابق ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی اور اُن اہلیہ ماہین ظفر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے منگل کو ایک ایک سال قید اور 50، 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

طیبہ پر تشدد سے متعلق معلومات دسمبر 2016 میں سامنے آئی تھیں جس کے بعد سے سابق ایڈیشنل سیشن جج اور اُن اہلیہ کو عدالتی کارروائی کا سامنا ہے۔

اسلام آباد کے سابق ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی خان کے گھر سے پولیس نے طیبہ کو برآمد کیا تھا۔

کم سن گھریلو ملازمہ طیبہ پر مبینہ تشدد کا معاملہ اس وقت ملک میں ایک بڑا موضوع بحث بن گیا جب اس لڑکی کی تصاویر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر سامنے آئیں جس میں اُس کے چہرے اور ہاتھ پر تشدد کے نشان نمایاں تھے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق نے اس معاملے کی سماعت کے بعد گزشتہ ماہ کی 27 تاریخ کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو کہ منگل کو سنایا گیا۔

واضح رہے کہ تشدد کا شکار بننے والی طیبہ کے والد نے اس معاملے میں نامزد ضلعی عدالت کے جج اور ان کی اہلیہ کو معاف کر دیا تھا جس کے بعد اسلام آباد کی ایک عدالت نے جج راجہ خرم علی اور ان کی اہلیہ کی ضمانت منظور کر لی تھی۔

تاہم چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے صلح نامے پر سوال اٹھایا تھا کہ ایسے واقعات میں عموماً دباؤ ڈال کر صلح کروا دی جاتی ہے اور معاملہ دب جاتا ہے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  فضائی آلودگی بچوں کی پیدائش پر اثرانداز ہوتی ہے، تحقیق - ایکسپریس اردو

چیف جسٹس نے پولیس کو اس معاملے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

یہ معاملہ گزشتہ سال اُس وقت ڈرامائی رخ اختیار کر گیا جب فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی دو خواتین، فرزانہ اور کوثر، اسلام آباد کی عدالت میں پیش ہوئیں اور اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ 10 سال گھریلو ملازمہ طیبہ اُن کی بیٹی ہے۔

اس دعوے کے بعد اب ’ڈی این اے‘ ٹیسٹ کے ذریعے اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ طیبہ کس کی بیٹی ہے۔

عدالت میں پیش ہونے والی خواتین کا یہ موقف تھا کہ اُن کی بیٹیاں اغوا ہوئی تھیں اور جب اُنھوں نے ٹیلی ویژن پر طیبہ کی تصاویر دیکھیں تو اُنھیں یہ ہی لگا وہ اُن کی گمشدہ بیٹی ہے۔

اگرچہ پاکستان میں مشقت کرنے والے بچوں کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی اعدادوشمار موجو د نہیں ہے تاہم بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 10 سے 14 سال کے بچوں کی 13 فیصد تعداد ایسی ہے جو کام کرنے پر مجبور ہیں۔