34

شہزادی زیب النسا کا باغ

لاہور کو باغوں کا شہر کیا جاتا ہے۔ مغل بادشاہ جہاں بھی گئے انہوں نے خوبصورت قلعے، مقبرے اور بارہ دریاں بنوائیں۔ باغات بنوانے کا سلسلہ بھی رکھا۔ انہی میں چوبرجی کا باغ بھی شامل ہے جو ایک زمانے میں کئی ایکڑ رقبے تک پھیلا ہوا تھا۔ اب نہ باغ رہا نہ اس کی رعنائیاں اور نہ اسے بنانے والے رہے، بس ایک صدر دروازہ رہ گیا جسے یورش زمانہ بھی نیست و نابود نہ کرسکی۔

چوبرجی باغ کی خوبصورتی، وہاں بنی سنگ مر مر کی بارہ دری، آبشاریں، سنگ نشیب کے جھروکے، قطار در قطار لگے پیڑ اور رنگ برنگے مختلف اقسام کے دیدہ زیب اور خوشبوئیں بکھیرتے پھولوں کی کیاریاں یقیناً دل لبھانے کا سامان ہوں گی مگر اس کی رعنائیوں کے قصّے اب صرف تاریخی کتب میں ہی ملتے ہیں کیونکہ یہ باغ بھی لاہور کے دیگر بے شمار باغات کی طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔

کچھ بچ رہا تو اس کے وہ عظیم الشان آثار جن کا اسٹرکچر، بناوٹ، نقش و نگاری، قیمتی پتھروں کا جڑاؤ اور فرشوں کی چال دیکھ کر ماہرین فن تعمیر اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے افراد اس عظیم الشان باغ کی وسعت، بے پناہ خوبصورتی اور بنانے والے کے شوق کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔ چوبرجی باغ کا صدر دروازہ تو چوبرجی چوک میں ہے جس کا نظارہ ہر خاص و عام کرسکتا ہے۔

کم لوگوں کو معلوم ہے کہ عین اسی طرح کا ایک چھوٹا دروازہ جسے چھوٹی چوبرجی کہا جاتا ہے، موڑ سمن آباد کے قریب چھپڑ سٹاپ پر واقع ایک تنگ سی گلی میں موجود ہے جس کے دائیں بائیں چوبرجیاں اور بھی ہیں۔ عمارت میں سنگ سیاہ اور سنگ زرد کی نقش و نگاری کی گئی ہے۔ عمارت کے دونوں اطراف دو دو گز اونچے چبوترے ہیں جبکہ چھت پر 24 زینے طے کرکے جایا جاتا ہے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  70 سال سے جاری کھیل ختم نہ ہوا تو ملک کو خطرات لاحق ہوجائیں گے، نواز شریف

اس تاریخی باغ اور ان عظیم الشان آثار کے اردگرد بے شمار مکانات تعمیر کیے جاچکے جن کی وجہ سے وہ ان مکانات میں دب سے گئے ہیں۔ علاقے کے لوگوں کو ان آثار قدیمہ کا وجود اس لیے بھی برا لگتا ہے کہ خاکروب وہاں کوڑا کرکٹ پھینک جاتے ہیں۔ تاہم مغلیہ دور کے فن تعمیر کا یہ نادر نمونہ آج بھی اس قابل ہے کہ اسے کئی صدیوں تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔

بیشتر محققین باغ چوبرجی کو شہزادی زیب النساء بنت اورنگزیب عالم گیر شہنشاہ ہند سے منسوب کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ یہ باغ اگرچہ اسی کا ہے تاہم شہزادی نے اس کا انتظام و انصرام اپنی پسندیدہ کنیز، مہباّ بیگم کے سپرد کردیا تھا۔ مزید لکھتے ہیں کہ باغ کے دروازے پر اشعار سے ظاہر ہے کہ زیب النساء نے یہ باغ اپنی کنیز مہباّ بائی کو دے دیا۔ فارسی کا مصرع اس طرح ہے:

’’بکشت مرحمت ایں باغ برمہباّ بائی‘‘

ان محققین کے نامیہ ہیں:(ا) تحقیقات چشتی کے مصنف مولوی نور احمد چشتی،(ب) تاریخ لاہور کے مصنف سید محمد لطیف (ج) مغلیہ عمارات اور فن تعمیر کے مصنف ایاز محمود۔اس کے برعکس ’’دختران ہند‘‘ کے مصنف پروفیسر محمد علم دین سالک لکھتے ہیں ’’شہزادی زیب النساء کا اس باغ سے کوئی تعلق نہیں ۔وہ 1637ء میں پیدا ہوئی جبکہ 1646ء میں یہ باغ تعمیر ہورہا تھا۔ اس وقت شہزادی کی عمر آٹھ نوسال کے قریب تھی۔ایک کم سن لڑکی سے کسی باغ کی تعمیر کی توقع کیسے ہوسکتی ہے؟‘‘ (نور احمد چشتی اور سید محمد لطیف لکھتے ہیں کہ دروازے کی پیشانی پر مشرق کی جانب سے نیلے حروف میں آیت الکرسی لکھی ہے جس کے آخر میں باغ کی تعمیر کا سال درج ہے) لیکن اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بیشتر حروف مٹ چکے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  جوہری ہتھیاروں کے تجربات سے شمالی کوریا محفوظ نہیں ہوسکتا، امریکا

مندرجہ بالا بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے:

(1) اگر باغ کی تعمیر کا سال 1646ء لیا جائے تو یہ بادشاہ شاہ جہاں کا دور حکومت تھا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ شاہ جہاں کے ہوتے ہوئے ایک کمسن بچی باغ کی تعمیر کرسکے (2) ہوسکتا ہے کہ سن تعمیر میں غلطی ہوئی ہو۔(3)ممکن ہے کہ یہ باغ اورنگ زیب نے زیب النساء کو تحفے میں دے دیا۔اب یہ قارئین پر ہے کہ ان کی کیا رائے ہے۔

ملتان روڈ لاہور پر جب سمن آباد چوک سے قریباً ایک فرلانگ آگے جائیں تو بائیں ہاتھ مکانوں اور دکانوں میں گھرا ایک ویران سا گنبد نظر آئے گا۔ کچھ مورخین کے مطابق زیب النساء دختر شہنشاہ اورنگزیب عالم گیر کا مقبرہ نواں کوٹ لاہور میں ہے۔ ان مورخین میں سید محمد لطیف، نور احمد چشتی وغیرہ شامل ہیں۔ بعض مورخین اس کی قبر دہلی میں بتاتے ہیں۔ ’’ماثر عالمگیری‘‘ کا مصنف، محمد ساقی مستعد خاں لکھتا ہے کہ زیب النساء صاحبہ الزمانی کے باغ تیس ہزاری، دہلی میں پیوند خاک کی گئیں۔ مولف تاریخ محمدی زیب النساء کی وفات اور تدفین دہلی لکھتا ہے۔

مولف ’’واقعات دارالحکومت‘‘ دہلی لکھتا ہے: دہلی شہر کے کابلی دروازے کے باہر نواب زیب النساء بیگم کا مقبرہ تھا جن کا انتقال 1702ء میں ہوا۔ یہ مقبرہ اور مسجد عالمگیر کے عہد میں بنے تھے جو ریل کی سڑک میں آنے کی وجہ سے مسمار ہوگئے۔ افسوس اس زمانے میں عمارت قدیمہ کی حفاظت کا کوئی قانون نہ ہونے اور ریلوے والوں کی غفلت کی وجہ سے ناقابل تلافی نقصان ہوگیا۔ (صفحات 465 تا 474 حصہ دوم واقعات دارالحکومت دہلی تالیف مولوی بشیر احمد طبع اول دہلی 1919ء ع) ۔ سرسید مرحوم کا بیان ہے کہ شہزادی دہلی میں زینت المساجد میں دفن ہے لیکن یہ مسجد شہزادی کی بہن زینت النساء نے تعمیر کرائی تھی اور وہی اس میں دفن ہے، اسی لیے اس بیان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ ملک کے بہترین محقق اور عظیم انشا پرداز، مولانا محمد حسین آزاد کا بیان لائق اعتماد ہے۔ فرماتے ہیں ’’زیب النساء کی قبر دہلی کے باہر تھی۔ میں نے خود یہ قبر دیکھی تھی اور وہ کتبہ بھی پڑھا تھا جس پر عالمگیر نے اس کی تاریخ وفات کندہ کرائی تھی لیکن افسوس کہ اب اس کے سینے پر ریل سفر کرتی ہے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  قندیل بلوچ قتل اور مفتی عبدالقوی: کب کیا ہوا؟

مشہور مورخ،محمد دین فوق اپنی کتاب ’’لاہور عہد مغلیہ میں‘‘ لکھتے ہیں کہ دہلی کے خمیر نے شہزادی کو لاہور میں دفن نہ ہونے دیا۔‘‘’’ اماکن لاہور‘‘ کے مصنف ڈاکٹر سید عبداللہ چغتائی رقم طراز ہیں ’’دہلی میں زیب النساء بیگم کا روضہ کشمیری دروازے کے قریب تھا مگر جب راجپوتانہ ریلوے لائن بنائی گئی تو یہ روضہ بھی اس کی زد میں آکر تباہ ہوگیا۔‘‘

مندرجہ بالا حقائق سے ثابت ہوا کہ نواں کوٹ میں مقبرہ زیب النساء کا نہیں ہے۔ اس کی قبر دہلی میں تھی۔ گمان غالب ہے کہ یہ عمارت نواب افضل خاں شاہ جہاں کے وزیراعلیٰ کی افضل منزل کے حصے ہیں۔جب وہ فوت ہوا تو یہیں دفن ہو گیا۔

قاضی محمد اعظم

The post شہزادی زیب النسا کا باغ appeared first on ایکسپریس اردو.