41

شمالی کوریا کے اسلحہ خانے میں ‘حسن کی فوج’

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو دنیا کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے میزائل چلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ان کے اسلحہ خانے میں کئی دوسرے ہتھیار ہیں۔ یہ ہتھیار ان کی مشینیں نہیں ہیں بلکہ یہ ان کی خواتین سفیر ہیں جن کا کسی میزائل ہی کی طرح ذکر ہوتا ہے۔ان میں سے حال میں سب سے زیادہ سرخیوں میں رہنے والی ان کی بہن کم یو جونگ ہیں۔ کم یو جونگ نے جنوبی کوریا کے ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کیا اور ان کے ذہن و دل پر چھا گئیں۔جب انھوں نے اپنے بھائی کے پیغام کے ساتھ جنوبی کوریا کے ایوان صدر میں قدم رکھا تو ٹی وی پر ان کے ہر انداز کو دکھایا گيا۔کم یو جونگ کے زرق برق لباس، ان کی زلفیں اور ان کے انداز کی امریکہ میں بھی گونج سنی گئی اور ٹی وی چینلوں پر پابندی کے باوجود وہ موضوع بحث رہیں۔سرمائی اولمپکس

کم یو جونگ نے جب جنوبی کوریا کے پیونگچین میں منعقدہ سرمائی اولمپکس میں شرکت کی تو ناظرین کی نگاہیں اور ان کے موبائل ان کی طرف گھوم گئیں اور وہ پراسرار ملک کے انسانی چہرے کے طور پر سامنے آئیں۔یہ بھی پڑھیے٭ کم جونگ اُن میک اپ فیکٹری کیوں جا پہنچے؟٭ ’جنگی ہیروئن‘ اور کم جونگ اُن کی دادیایک نوجوان نے کہا: ‘یہ حیرت انگیز ہے، معجزہ ہے۔ میں نے شمالی کوریا کا یہ چہرہ پہلے کبھی نہیں دیکھا۔’ دوسرے نے کہا: ‘میرا دل پگھل رہا ہے۔’خیا رہے کہ وہ پیونگچین میں اپنے بھائی کی شبیہ بدلنے آئی تھیں اور انھوں نے میڈیا میں کم از کم اپنے ملک کی تصویر تو بدل دی۔پیانگ یانگ میں خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے سابق بیورو چیف ژاں لی کہتے ہیں: ‘جنوبی کوریا کے لوگوں کے لیے یہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔تصویر بدل دی۔۔۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  جاپان میں فلیٹ سے 8 خواتین سمیت 9 افراد کی سرکٹی لاشیں برآمد

ژاں لی کہتے ہیں: انھوں نے خوبصورت ترین خاتون کو یہاں بھیجا۔ جب آپ شمالی کوریا جائیں گے ہیں، تو ایسی خوبصورت خواتین آپ کو لبھائیں گی۔’ان کا یہی کام ہے کہ وہ لوگوں کو احساس دلائيں کہ ان کا ملک اور وہاں کے لوگ اتنے برے نہیں ہیں۔’شمالی کوریا کی امیج بدلنے کا کام کچھ دن قبل شروع ہوا جب خواتین کا ایک گروپ جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول پہنچا۔یہ بھی پڑھیے٭ شمالی کوریا کے پاس کیا کچھ ہے٭ شمالی کوریا کی فوجی خواتین کس حال میں ہیں؟شمالی کوریا کی ‘حسن کی فوج’ جب جنوبی کوریا پہنچی تو جنوبی کوریا کے خوبصورت نظر آنے کی چاہ رکھنے والی آبادی کی توجہ اپنی جانب کھینچی۔ایک سابق چیئر لیڈر کا ڈر

شمالی کوریا کی چيئرليڈر گروپ کی سابق رکن ہین سوہے نے بتایا: ‘ہم لوگوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ہم یہ ظاہر کریں کہ شمالی کوریا ایک سماجی اور خود کفیل ملک ہے۔ یہ امید کی جاتی ہے کہ ہم دشمنوں کے دل میں اترنے جا رہے ہیں اور یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ ہم میں غیور ہیں۔ ہین سوہے کو اس وقت شمالی کوریا چھوڑنا پڑا جب ان کے بھائی کو ملک بدر کر دیا گیا۔ اگر وہ وہاں رہتیں تو انھیں اور ان کے خاندان کو قید کی سزا ہوتی۔ اب وہ جنوبی کوریا میں آباد ہیں۔وہ شمالی کوریا میں ٹریننگ کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں: ‘ہم لوگوں کو بتایا جاتا تھا کہ آپ دوسرے ملک میں اپنے ملک اور اپنے لیڈر جنرل کم کا احترام بڑھانے جا رہے ہیں۔ میری ساتھی کہتی تھی کہ وہ اپنے ملک کو نہ بھولے اس لیے وہ سوٹ کیس میں اپنے ملک کی مٹی اور کم جونگ کے والد کا ایک چھوٹا سا مجسمہ ساتھ لائی تھی۔’ثقافتی فرق

اس خبرکوبھی پڑھیں:  انگلینڈ: ’موت کے حق‘ کے لیے درخواست کی سماعت - BBC Urdu

پیونگچین میں آئس ہاکی میچ کے دوران دو ممالک کے درمیان کا ثقافتی فرق بھی نظر آیا۔جہاں جنوبی کوریا کی چیئر لیڈرز مختصر سکرٹ اور بوٹوں میں رقص کرتی نظر آئیں وہیں شمالی کوریا والے وطن پرستی کے نغمے سے حوصلہ افزائی کرتے نظر آئے۔ہین سوہی سنہ 2003 کے ایک واقعے کی یاد سے ڈر جاتی ہیں۔وہ کہتی ہیں: ‘جب چيئرليڈرز جنوبی کوریا پہنچیں، اس وقت بارش ہو رہی تھی۔ ایک چيئرليڈر کے ہاتھ میں کم جونگ ال کا پرچم تھا، وہ بھیگ گیا۔’

‘تمام چیئر لیڈرز بس سے نیچے آ کر پرچم کو بچانے لگيں۔ جنوبی کوریا کے لوگوں کے لیے یہ عجیب بات تھی۔ یہ فرق شمالی اور جنوبی کوریا میں ہے۔’شمالی کوریا کے امور کے ماہر ایان بریمر نے ٹویٹ کیا: ‘شمالی کوریا کی چیئر لیڈرز نے حیرت انگیز کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔’لیکن وہ ایک مجرم ملک میں یرغمال ہیں اور یہ یہ دل کو افسردہ کرنے والی بات ہے۔’بہر حال ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شمالی کوریا کی لبھانے کی قوت کی اپنی حدیں ہیں۔