127

شریف

وہ ڈرتی ہوئی بھاگے جارہی تھی اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے انسانی روپ میں حیوان اسے نوچ کھائیں گے ۔
بچتی بچاتی ایک شریف آدمی سے آٹکرائی جسے دیکھ کر وہ ہر ڈر بھول گئی۔
اس کے گھر میں پناہ لی۔
وہ یوں باتوں میں آگئی کہ اسی رات دونوں نے بنا مولوی کے خود اپنا نکاح پڑھوا لیا ۔
صبح وہ اپنی خوش نصیبی پر فخر کر رہی تھی۔
مجازی خدا نے آکر کہا ، اب اپنے گھر جاؤ ۔
اپنے گھر ؟ وہ چونکی ، ہم نے نکاح کیا ہے
ہاہاہا۔۔
اب میں تمہیں طلاق دیتا ہوں

برائے تبصرہ
[email protected]