35

سوشل میڈیا وقت کی ضرورت: رائٹرز کلب کی ورکشاپ

گزشتہ اتوار 28 اکتوبر2018 کو رائٹرز کلب کے زیرِ اہتمام “ سوشل میڈیا وقت کی ضرورت“ کے عنوان سے ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا- یہ معلوماتی ورکشاپ کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں واقع وی ٹرسٹ میں منعقد کی گئی- اس ورکشاپ میں رائٹرز کلب اور کراچی کے معروف صحافیوں ، کالم نگاروں نے اپنے مقالات پیش کیے جبکہ اس ورکشاپ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی- اس پروگرام کی خاص مہمان ڈاکٹر شاکرہ نندنی تھیں جو کہ پُرتگال سے پروگرام میں شرکت کے لئے کراچی اپنی دونوں بیٹیوں سیت ناتھانی اور شگفتہ ناتھانی کے ساتھ تشریف لائیں تھیں.

ورکشاپ کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا اور اس کی میزبانی کے فرائض رائٹرز کلب کے سیکریٹری جنرل جانب عدنان کاظمی چراغ صاحب نے انتہائی احسن طریقے سے انجام دیے۔ خطبہ استقبالیہ کے بعد ورکشاپ میں ڈاکٹر شاکرہ نندنی صاحبہ نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ “ میرا موضوع ہے “ شعوربیدار کرنے میں سوشل میڈیا کا کردار“ اگر اس بارے میں ویب سائٹ کھولیں تو سوشل میڈیا کے بڑے بڑے فائدے نظر آئیں گے- اس سے عام افراد کی معلومات میں اضافہ ہوا ہے- معلومات کا ذخیرہ خود بخود آپ تک پہنچ جاتا ہے – اس سے فوری طور پر اطلاع ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی جاسکتی ہے“۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ “میں نے دونوں قسم کے معاشروں کی سوشل میڈیا میں لکھا ہے- پاکستان میں کئی اقسام کی سوشل میڈیا ہیں مثلاً موبائی فون کے ایس ایم ایس٬ یو ٹیوب٬ فیس بک٬ ٹوئٹر وغیرہ- لیکن ان سب میں مقبول فیس بک ہے- میں فیس بک کی آمد سے قبل یورپ امریکہ وغیرہ کی ویب سائٹوں میں لکھتی تھی مگر جب فیس بک آیا تو کہا چلو اس میں بھی غوطہ مار کر دیکھ لیا جائے- میں نے ایک فرق پایا کہ جو کچھ میں کہنا چاہتی ہوں وہ میں پاکستان کی سوشل میڈیا پر آسانی سے نہیں کہہ سکتی- ایک خوف ہے کہ کوئی برا نہ مان جائے – دوسرا میں نے یہ پایا کہ پاکستانی معاشرے میں آپ اتنا جلد اثر نہیں کرتے جتنا ترقی یافتہ ممالک یورپ اور امریکہ کے معاشرے پر اثر کرتے ہیں“-
“ سوشل میڈیا اس وقت زیادہ متاثر کن یا ایفیکٹیو ہوگا جب معاشرہ بھی قبول کر نے کےجراثیم رکھتا ہو – میں نے دیکھا کہ میں جو بات آگے پہنچانے جا رہی ہوں اسے یورپی قوم کے افراد نے جلدی کیچ کیا یا سمجھیں ان کے ذہن منجمد نہیں تھے-

ائٹرز کلب کی یہ ورکشاپ اس اعتبار سے منفرد تھی کہ اس میں سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا گہرائی میں جائزہ لیا گیا۔ تمام پہلوؤں پر کھل کر بات ہوئی۔ کل مقررین کی تعداد 16 تھی ، طویل نشست ہوئی 10 بچے سے شروع ہوکر دوپہر 2 بجے اختتام ہوا اس طویل نشست میں سامعین میں موضوع سے دلچسپی قائم رہی اور وہ انہماک اور دلچسپی سے مقررین کو سنتے رہے۔ اس دوران ہماری ویب رائٹرز کلب کی جانب سے شرکاﺀ کے لیے ریفرشمنٹ کا بھی انتظام کیا گیا- سال 2018 میں رائیٹرز کلب کا یہ آخری پروگرام تھا ۔