41

سندھ اور اسلام آباد کی پولیس راؤ انور کو گرفتار نہ کریں

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کراچی میں مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلے میں نوجوان نقیب اللہ کی ہلاکت کے مقدمے کے مرکزی ملزم اور سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو حفاظتی ضمانت دینے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے تین رکنی بینچ نے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران سندھ پولیس اور وفاقی دارالحکومت کی پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ راؤ انوار کو گرفتار نہ کریں۔ ’کاش نقیب اللہ کا نام احسان اللہ احسان ہوتا‘نقیب اللہ کی ’پولیس مقابلے میں ہلاکت‘ کا ازخود نوٹسنقیب اللہ کیس: راؤ انوار کو عہدے سے ہٹا دیا گیاعدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ کوئی ملزم راؤ انوار کو نقصان نہ پہنچائے کیونکہ اس سے ثبوت ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔عدالت نے ملزم راؤ انوار سے کہا ہے کہ وہ 16 فروری یعنی جمعے تک عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔نقیب اللہ قتل کیس سے متعلق از خودنوٹس کی سماعت کے دوران عدالت میں ملزم راؤ انوار کا خط پڑھ کر سنایا گیا جو اُنھوں نے پاکستان کے چیف جسٹس کے نام لکھا تھا۔ اس خط میں کہا گیا تھا کہ اگر چیف جسٹس اس واقعے سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنا دیں تو وہ ان کے سامنے پیش ہونے کے لیے تیار ہیں لیکن سندھ حکومت کی طرف سے بنائی گئی تحقیقاتی ٹیم پر اُنھیں اعتبار نہیں ہے۔

’راؤ انوار طاقتور حلقوں کے بھی نور نظر‘’قبائلی جاگ گئے ہیں‘چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جب تک راؤ انوار عدالت میں پیش ہو کر اس خط کی تصدیق نہیں کرتے اس وقت تک عدالت اس معاملے میں نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نہیں بناسکتی۔عدالت کے استفسار پر سندھ پولیس کے سربراہ اے ڈی خواجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس خط میں لکھی گئی عبارت کے نیچے جو دستخط ہیں وہ راؤ انوار کے ہی ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس کے دوران اس بات کا عندیہ دیا کہ اس معاملے میں ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی جائے گی جس میں خفیہ اداروں کے برگیڈئیر رینک کے افسران بھی شامل ہوں گے۔بینچ کے سربراہ نے سندھ پولیس کے سربراہ سے ملزم راو انوار کی گرفتاری کے بارے میں سوال کیا تو اے ڈی خواجہ کا کہنا تھا کہ اُنھیں ملزم کی گرفتاری کے لیے کچھ مزید وقت چاہیے، جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کی طرف سے دس روز کی مہلت دیے جانے کے باوجود ملزم گرفتار نہیں ہوا۔عدالت کا کہنا تھا کہ مزید وقت دینے کے بعد بھی نتیجہ تبدیل ہونے کی توقع نہیں ہے۔اے ڈی خواجہ کا کہنا تھا کہ ملزم راؤ انوار واٹس ایپ کا استعمال کررہے ہیں جس کی وجہ سے ان کو لوکیشن کا سراغ نہیں مل رہا۔اُنھوں نے کہا کہ انٹیلیجنس بیورو کے پاس بھی واٹس ایپ کی کال ٹریس کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔واضح رہے کہ نقیب اللہ قتل سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران پاکستان کے چیف جسٹس نے سندھ پولیس کو راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے دس روز کی مہلت دی تھی اور عدالت نے اپنے حکم میں فوجی اورسویلین خفیہ اداروں کو حکم دیا تھا کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے سندھ پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔اس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران مقتول نقیب اللہ کے والد کا خط بھی پڑھ کر سنایا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ وہ ملزم راؤ انوار کی عدم گرفتاری پر عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عدالت فوج کے خفیہ اداروں کو طلب کر کے اُن سے راؤ انوار کی عدم گرفتار نہ پر پوچھ گچھ کرے۔اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے راؤ انوار کو گرفتار نہیں کرسکے اس لیے ملزم کی گرفتاری کے لیے میڈیا پر اشتہار دیا جائے اور لوگوں کی مدد حاصل کی جائے۔