32

ساز و سروز اور سر دھنتی ہوئی خواتین

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، گاجی شاہ، دادو

کھلے میدان میں ایک چٹائی بچھی ہوئی ہے، ایک شخص بین بجا رہا ہے جبکہ اس کے ساتھ بینجو اور سروز بھی موجود ہیں۔ اس ساز و سروز پر دو خواتین کھلے بالوں سمیت سر دھن رہی ہیں۔ ان خواتین کے بارے میں رشتے داروں کا ماننا ہے کہ ان پر جادو یا جنات کے اثرات ہیں، ان سازوں کی مدد سے ان پر قابو پالیا جائے گا۔ ارباب کھوسہ حیدرآباد سے اپنی والدہ کے ساتھ آئے ہیں وہ گذشتہ کئی سال سے یہاں کے چکر لگا رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے والد کا کئی سال پہلے انتقال ہوگیا جس کے بعد سے والدہ کا دماغ کام نہیں کرتا اور جنات کا بھی حساب ہے۔وہ کہتے ہیں: ’ہم نے ڈاکٹر سے دوا وغیرہ کرائی تھی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا جس کے بعد ہم نے سوچا کہ فقیروں سے روحانی علاج کرائیں، ہوسکتا ہے چھٹکارہ ہوجائے، ہم ہر سال یہاں آرہے ہیں۔‘ گاجی شاہ کے مزار پر ارباب علی کی طرح کئی درجن لوگ اپنی والدہ، بیوی، بہن یا بیٹی کے ساتھ آئے ہیں جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ ان پر جنات کا اثر ہے، گاجی شاہ کا مزار ضلع دادو میں سندھ اور بلوچستان کے پہاڑوں کے درمیان واقع ہے، ہر سال یہ بیابان اور ویران علاقہ تین روز کے سج جاتا ہے۔

مورخین کا ماننا ہے کہ گاجی شاہ مغل حکمرانوں کے خلاف اس وقت کی میاں وال تحریک کے سرگرم کمانڈر تھے جس کی سربراہی میاں نصیر کلہوڑا کر رہے تھے۔اس مزار کے نگران کھوسہ قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، جو سیاہ چادر اوڑہتے ہیں اور انھیں گاجی شاہ کے فقیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ برکت فقیر کھوسہ کا عقیدہ ہے کہ یہاں سے لوگ صحت مند ہوکر لوٹتے ہیں۔ ’گاجی شاہ کا ساز و سروز ہے، ڈھول اور نقارہ ہے، لوگ اس پر دھمال کرتے ہیں اور خوش ہو جاتے ہیں۔ جنات ایک سال تک انھیں تنگ نہ کرنے کا وعدہ کرکے جاتے ہیں۔‘گاجی شاہ کے مزار پر آنے والے زائرین کی اکثریت سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے بلوچ قبائل کی ہوتی ہے، ان علاقوں میں عام زندگی میں خواتین کا کردار محدود ہوتا ہے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  شمالی کوریا میں بس حادثے میں چینی سیاحوں سمیت 36 افراد ہلاک

ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں 50 لاکھ سے زائد افراد ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہیں ، ایک طرف ان مریضں کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا معیوب سمجھا جاتا ہے تو دوسری جانب علاج معالجے کی سہولیات انتہائی محدود ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں بجٹ کا 0.4 فیصد ذہنی صحت کے شعبے کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔ذہنی امراض کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اظہار رائے نہ ہونے کی وجہ سے ذہنی خلفشار پیدا ہوتا ہے، جس کا نشانہ زیادہ تر خواتین بنتی ہیں۔اسرا یونیوسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر منظور حسین جمالی کا کہنا ہے کہ جب ذہن پر دباؤ پڑتا ہے تو کچھ ذہنی بیماریوں کی علامات آجاتی ہیں۔’کچھ لوگوں کو یہ دوروں کی صورت میں آتی ہیں کچھ لوگوں کو آوازیں سنائی دیتی ہیں اور کچھ لوگوں کو چیزیں نظر آتی ہیں جن کو جن بھوت کا نام دیا جاتا ہے ایسے لوگ جب درباروں پر آتے ہیں اور وہاں اپنے دل کی بات کرتے ہیں تو ان کے اندر کا دباؤ اور کچھاؤ وقتی طور پر کم ہوجاتا جس کے نتیجے میں وہ علامات وقتی طور پر کم ہوجاتی ہیں اور لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہمیں یہاں آنے سے فائدہ ہوا۔‘

گاجی شاہ کا مزار جس علاقے میں واقع ہے اس پورے ضلعے میں نفسیاتی بیماریوں کے علاج کا ایک بھی مرکز موجود نہیں ہے، سہون میں حال ہی میں سید عبداللہ شاہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس قائم کیا گیا ہے لیکن وہاں بھی شعبہ نفسیات نہیں ہے۔ گاجی شاہ کے مزار پر پینے کے پانی کا فقدان ہے جبکہ مزار کی سکیورٹی بھی نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ اس سے قبل فتح پور اور شاہ نورانی میں بھی ایسے ہی حالات کی وجہ سے دھماکے ہوچکے ہیں۔