25

سات عادات ترک کرکے میگرین سے نجات پانا ممکن

میگرین شدید قسم کے اس سر درد کو کہا جاتا ہے جو سر کے آدھے حصے میں ہوتا ہے میگرین کا درد جہاں مریض کو ہلکان کر کے رکھ دیتا ہے وہیں میگرین کے ساتھ متلی، چکر اور مروڑ کی کیفیات بھی سامنے آتی ہے جس سے مریض دہری مصیبت کا شکار ہو جاتا ہے گو طب میں اس بیماری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے علاج تاحال دریافت نہیں ہوسکا ہے تاہم کچھ احتیاطیں اپنا کر میگرین پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
ماہرین طب کے مطابق روز مرہ کی سات عادات سے چھٹکارا حاصل کرکے میگرین پر قابو ممکن ہے یہ وہ عادات ہیں جن کی وجہ سے میگرین کے دورے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جب کے ان سے میگرین میں ہونے والے درد میں شدید اضافہ ہوجاتا ہے تاہم اگر مریض ان سات عادات سے خود کو بچالے تو میگرین کے دورے کو مؤخر کرسکتا ہے اور اگر میگرین کا درد شروع بھی ہوجائے تو اس کی شدت میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔
مانع حمل ادویات کا بے جا استعمال
میگرین کے مرض میں مبتلا ایسی خواتین جو حمل روکنے کے لیے مختلف ادویات کا استعمال کرتی ہے ایسی خواتین میں میگرین کا دور جلدی جلدی اور زیادہ شدت کے ساتھ وقوع پذیر ہوتا ہے اس لیے میگرین کے مرض میں مبتلا خواتین کو مانع حمل ادویات سے پرہیز کرنا چاہیے۔
نمک سے پرہیز
نمک فشار خون میں اضافے کا باعث ہوتا ہے اور کئی تحقیق سے بھی یہ ثابت ہوچکا ہے کہ نمک کے زیادہ استعمال سے میگرین کے درد میں بھی اضافہ ہوتا ہے اس لیے میگرین کے مریضوں کو چاہیے کہ اپنے روز مرہ کے کھانوں میں نمک کا استعمال کم کردیں۔
باسی پنیر
پنیر میں موجود ٹائرامن میگرین کی شدت میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں چنانچہ میگرین کے مریضوں کو پنیر کے باقاعدگی استعمال سے رک جانا چاہیے اور باسی پنیر تو بالکل نہیں کھانا چاہیے۔
مصنوعی مٹھاس
ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ مصنوعی مٹھاس میگرین کا سبب بن سکتی ہیں کیوں کہ مصنوعی مٹھاس میں شامل اجزاء سیروٹونن کے لیول میں کمی کا باعث ہوتے ہیں جو میگرین کی شدت میں اضافہ کردیتے ہیں۔
نیند میں کمی
میگرین کے درد میں کمی لانے کے لیے پُرسکون اور مکمل نیند لینا نہایت ضروری ہے جو مریض پوری نیند نہیں لیتے اُن میں میگرین کی شدت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسی طرح طیارے میں بیٹھی ہوئی حالت میں نیند لینے اور ٹائم زون کے فرق سے بھی میگرین میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
موسم میں تبدیلی
موسمی تغیر کے انسانی جسم پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور میگرین کے مریضوں میں موسم کی تبدیلی کافی تکلیف دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ ان مریضوں میں موسم کی تبدیلی کے دوران شدید درد دیکھنے میں آیا ہے اس لیے میگرین کے مریضوں کو احتیاط تجویز کی جاتی ہے۔
کسی ایک وقت کا کھانا چھوڑ دینا
میگرین کا تعلق دماغ، معدے اور آنتوں کی کارکردگی سے بھی ہوتا ہے۔ خالی معدہ میگرین کی شدت میں اضافہ کرتا ہے بالخصوص جب معمول سے ہٹ کر دن میں کسی ایک وقت کا کھانا چھوڑ دیا جائے تو میگرین کے درد میں شدت پیدا ہوسکتی ہے۔
The post سات عادات ترک کرکے میگرین سے نجات پانا ممکن appeared first on ایکسپریس اردو.