45

سائنس دانوں کا انقلابی اقدام، تھری ڈی پرنٹر سے انسانی قرنیہ تیار

 لندن: تجربہ گاہ میں تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے دنیا کا پہلا انسانی قرنیہ (کورنیہ) تیار کرلیا گیا ہے اس تجربے کی کامیابی سے لاکھوں ایسے افراد کو فائدہ ہوگا جو اس وقت انسانی آنکھ کے عطیے کی تلاش میں اپنی آنکھوں میں اندھیرے کے ساتھ کسی معجزے کے منتظر ہیں۔
برطانیہ کی نیوکاسل یونیورسٹی کے پروفیسر چی کونن اور ان کے ساتھیوں نے ایک تھری ڈی بایو پرنٹر سے انسانی قرنیے کا متبادل تیار کیا ہے۔ اس میں صحت مند انسانی قرنیے کے اسٹیم سیل میں کولاجن شامل کرکے بافت اگانے والی ایک خاص شکر سے حیاتیاتی روشنائی (بایواِنک) بنائی گئی ہے۔ حیاتیاتی روشنائی کو بہت احتیاط سے استعمال کرکے اس سے انسانی قرنیے جیسا قرنیہ چھاپا گیا ہے۔ تھری ڈی بایو پرنٹر نے صرف 10 منٹ میں ایک قرنیے کو کامیابی سے تیار کرلیا۔
ڈاکٹر چی کونن کے مطابق قرنیے کو ہائیڈروجیل میں رکھ کر ہفتوں تک اس میں اسٹیم سیل زندہ رکھے جاسکتے ہیں۔

انسانی قرنیہ ایک جانب تو آنکھ کو گرد وغبار اور جراثیم سے بچاتا ہے تو دوسری جانب وہ نظر کو ایک جانب فوکس کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ چونکہ یہ انسانی آنکھ کی سب سے بیرونی پرت ہے اور اسی بنا پر اس کے نقصان پہنچنے کا احتمال بھی رہتا ہے۔ پوری دنیا میں کئی امراض اور حادثات اسے متاثر کرتے ہیں اور لگ بھگ ایک کروڑ افراد اس کے متاثر ہونے سے نابینا پن کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اب تک اس کا واحد حل قرنیے کا عطیہ ہے جس کی شدید قلت ہے اور اس وقت بھی لاکھوں افراد قرنیے کے پیوند کے منتظر ہیں۔
ڈاکٹر کینن نے بتایا کہ ان کے طریقے میں اسٹیم سیل زندہ رہتے ہیں اور اتنے نرم ہیں کہ انسانی آنکھ پر انہیں بآسانی پیوند کیا جاسکتا ہے تاہم اس سے قبل مریض کی آنکھ کا مکمل جائزہ لینا ضروری ہے جس میں قرنیے کی جسامت، گولائی اور دیگر معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔
اس کے بعد ہی ایک قرنیہ تیار کیا گیا ہے لیکن ڈاکٹر کینن کا اصرار ہے کہ اس خواب کی عملی تعبیر میں اب بھی کئی سال لگ سکتے ہیں کیونکہ جانوروں کے بعد ہی انہیں انسانوں پر آزمایا جائے گا۔
The post سائنس دانوں کا انقلابی اقدام، تھری ڈی پرنٹر سے انسانی قرنیہ تیار appeared first on ایکسپریس اردو.