172

زمین کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ارتکاز کا نیا عالمی ریکارڈ

اقوام متحدہ کے مطابق زمین کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ارتکاز ایک نئی ریکارڈ حد تک پہنچ گیا ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم نے بتایا کہ اس کی بدلتے موسمی حالات سے بھی بڑی وجہ زمین پر انسانوں کی ماحول دشمن سرگرمیاں بھی ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا سے پیر تیس اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ زمین کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کے اس بہت خطرناک ارتکاز میں بے تحاشا اضافے کو روکنے کے لیے فوری اور بہت فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ دوسری صورت میں تحفظ ماحول کے لیے پیرس کے عالمی ماحولیاتی معاہدے میں طے کردہ اہداف کا حصول انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
اقوام متحدہ کے موسمیات سے متعلق ذیلی ادارے عالمی موسمیاتی تنظیم یا WMO نے پیر کے روز بتایا کہ 2016ء کے دوران زمین کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس یا CO2 کے ارتکاز کی شرح مزید بڑھ کے ایک نئی ریکارڈ حد تک پہنچ گئی۔
اس تنظیم کے مطابق، ’’2015ء میں عالمی سطح پر زمین کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی موجودگی کی اوسط شرح 400 حصے فی ملین (پارٹس پر ملین یا پی پی ایم) تھی، جو 2016ء میں مزید بڑھ کو 403.3 حصے فی ملین ہو گئی۔ اس ابتری میں موسمیاتی تبدیلیوں کے ’ایل نینیو‘ (El Nino) اثرات نے بھی اپنا کردار ادا کیا لیکن اس کی ایک بڑی وجہ زمین پر انسانی آبادی کی وہ سرگرمیاں بھی تھیں، جو کرہء ارض کے ماحول اور آب و ہوا کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔‘‘ یہ بات عالمی موسمیاتی تنظیم نے اپنی اس انتہائی اہم سالانہ رپورٹ میں بتائی ہے، جو ’گرین ہاؤس گیس بلیٹن‘ کہلاتی ہے اور جس کے ذریعے 1750ء میں صنعتی انقلاب کے بعد سے آج تک زمین کی فضا میں خارج ہونے والی زہریلی سبز مکانی گیسوں کے اخراج کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔

پیرس کے عالمی ماحولیاتی معاہدے کی دو برس قبل دنیا کے 196 ممالک نے منظوری دی تھی لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے امریکا کے اس عالمی معاہدے سے اخراج کے اعلان کے بعد سے اس سمجھوتے کو بہت زیادہ دباؤ کا سامنا ہے۔
اسی موضوع پر جرمنی کے شہر بون میں اگلے ہفتے سے ایک عالمی ماحولیاتی کانفرنس بھی شروع ہو رہی ہے،جو قریب ڈیڑھ ہفتے تک جاری رہے گی اور جس میں شریک ممالک اس بات پر زور دیں گے کہ پیرس معاہدے میں طے کردہ اہداف کے حصول کے لیے بھرپور عملی کوششیں جاری رکھی جانا چاہییں۔
اسی بارے میں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے سربراہ ایرک زولہائم نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے، ’’ہمیں اس وقت عالمی سطح پر ایک نئے سیاسی عزم کی ضرورت ہے اور اس خطرناک مسئلے کی شدت کو فوری طور پر سمجھنے کے لیے ایک نئے زاویہ نگاہ کی بھی۔‘‘
Source: Online News | By Shakira Nandini
کمنٹ باکس میں اپنا تبصرہ کرنا نہ بھولئیے گا.