46

’دولتِ اسلامیہ نے موصل میں 741 لوگوں کو قتل کیا‘

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے موصل پر لڑی جانے والی جنگ کے دوران کم از کم 741 عام شہریوں کو سزائے موت کے انداز میں قتل کیا ہے۔اس کے علاوہ اس نے بڑے پیمانے پر لوگوں کو اغوا کیا، شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا، جان بوجھ کر گھروں پر گولہ باری کی، اور بھاگتے ہوئے لوگوں کو نشانہ بنایا۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ زید رعد حسین نے کہا: ‘اس کے ذمہ داروں کو اپنے گھناونے جرائم کا جواب دہ ٹھہرانا چاہیے۔’’موصل میں شہریوں کی ہلاکتیں ممکنہ جنگی جرائم‘ دولت اسلامیہ کے بعد موصل شہر کی رونقیں بحال؟انھوں نے کہا کہ عراقی افواج نے انسانی حقوق کی جو خلاف ورزیاں کی ہیں ان کی بھی تحقیقات ہونی چاہییں۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ مزید 461 عام شہری موصل کی جنگ کے سب سے شدید حصے کے دوران عراقی فوج اور امریکی قیادت والے اتحاد کی بمباری سے ہلاک ہوئے۔ یہ جنگ نومبر 2016 سے جولائی 2017 تک لڑی گئی۔ اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور عراق کے لیے امدادی مشن کی جانب سے سے جمعرات کو شائع کی جانے والی رپورٹ کے مطابق اس دوران کل ملا کر کم از کم 2521 عام شہری مارے گئے جب کہ 1673 زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نومبر 2016 کے اوائل میں دولتِ اسلامیہ کے زیرانتظام موصل کے علاقوں میں شدت پسند تنظیم نے لاؤڈ سپیکروں پر اعلان کروایا کہ ان علاقوں کے شہریوں کو نشانہ بنانا جائز ہے جہاں عراقی فوج نے قبضہ کر لیا ہے کیوں کہ وہ فوجیوں کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے۔رپورٹ کے مطابق ‘اس ’فتوے‘ کے بعد دولتِ اسلامیہ نے مشرقی موصل میں شہریوں کو براہِ راست ہدف بنانا شروع کر دیا۔’رعد الحسین نے کہا: ‘موصل شہر پر قبضے کی جنگ کے دوران ہزاروں شہریوں کو بین الاقوامی انسانی قوانین کی واضح خلاف ورزیوں کا نشانہ بنایا گیا۔’انھوں نے مزید کہا: ‘سزائے موت کے انداز میں عام شہریوں کا قتل، خاندانوں پر مصیبتیں ڈھانا اور جائیداد کے بےدریغ تباہی کو کسی بھی جنگ کے دوران برداشت نہیں کیا جا سکتا، اور اس کے ذمہ داروں کو اپنے گھناونے جرائم کا جواب دینا ہو گا۔’رپورٹ میں عالمی برادری سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جن کے تحت ‘بین الاقوامی جرائم،’ مثلاً نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کرنے والوں کو جواب دہ قرار دیا جا سکے۔رپورٹ میں لکھا ہے کہ عراقی عدالتوں کو بین الاقوامی جرائم کے معاملات پر اختیار نہیں ہے، اور پولیس اور استغاثہ کے پاس تحقیقات، فردِ جرم عائد کرنے اور لوگوں پر مقدمہ چلانے کی صلاحیت نہیں ہے۔ مزید یہ کہ عراقی قانون میں منصفانہ مقدمات کے عمل کی کافی ضمانت نہیں ہے۔