66

دنیا میں چراغ جلانے والا ملک

دنیا میں یوں تو بہت سے ممالک اپنے آپ کو انسان دوست کہلاتے ہیں لیکن اصل میں ایک انسان دوست ملک بحر ہند میں بھارت کے جنوبی اور مشرقی ساحل کے قریب واقع ایک جزیرہ سری لنکا ہے جس نے یہ عملی طور پر ثابت کر دیا کہ جو اہم خدمت وہ انجام دے رہا ہے، اس کا نہ کوئی صلہ دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے لیے شکریے کے الفاظ دنیا کے پاس موجود ہیں۔
یہ ہے آنکھوں کا وہ عظیم عطیہ جو اب تک بے شمار افراد کو زندگی کی خوشیاں لوٹا چکا ۔سری لنکا کے اس تحفے کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے۔دراصل سری لنکا میں ہر پانچ میں سے ایک شہری زندگی ہی میں اپنی آنکھیں عطیہ کر دیتا ہے۔وجہ یہ کہ سری لنکا میں سنہالی نسل کی اکثریت ہے جو بدھ کے پروکار ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ ان کے مذہبی پیشوا، گوتم بدھ نے پچھلے جنم میں ایک نا بینا کے لیے اپنی آنکھوں کا عطیہ دیا تھا۔ لہذا یہ کہنا بہتر ہوگا کہ سری لنکا میں جب ایک چراغ بجھتا ہے تو دنیا میں دو چراغ روشن ہوتے ہیں ۔
سری لنکا نے حال ہی میں چار فروری کو اپنا قومی دن منایا ہے۔یہ ناشپاتی کی شکل کا ایک جزیرہ ہے ۔ اس کا رقبہ 65610 کلو میٹر ہے ۔ جزیرے کا دو تہائی حصہ ہموار میدان ہے جبکہ جنوب میں زمین کی سطح بلند اور پہاڑی چوٹیاں بھی نظر آتی ہے۔ سب سے بلند پہاڑی 2524فٹ ہے۔ کولمبو کا اوسطاََ درجہ حرارت 16ڈگری سینٹی گریڈ ہے ۔ارد گرد پہاڑوں پر دنیا کی عمدہ ترین چائے کے باغات ہیں۔
سری لنکا میں ٹرینکو مالی مشرقی ساحل پر ایک قدرتی بندرگاہ ہے جس کا شمار دنیا کی وسیع ترین بندرگاہوں میں ہوتا ہے۔
سری لنکا کے پہاڑ اپنے سبزے اور خوبصورتی کی وجہ سے کافی مشہور ہیں ۔یہاں پہاڑوں میں دریا تیزی کے ساتھ بہتے ہیں اور متعددآبشار بھی پائی جاتی ہیں۔
سری لنکا سیاحت کے لحاظ سے بے حد مقبول ترین جزیرہ ہے کیونکہ یہاں بدھ مت کے قدیم اور تاریخی کم و بیش سولہ مقدس مقامات موجود ہیں۔ شاید اسی لیے ہر سال 3لاکھ سے زائد سیاح سری لنکا ا ٓتے ہیں ۔سیاحوں کے لیے یہاں ایک دلچسپ کوہ آدم ہے جہاں پتھر پر ایک بڑانقش موجود ہے۔ اس نقش کے بارے میں جو پانچ فٹ لمبا ہے، مسلمانوںکا عقیدہ ہے کہ یہ حضرت آدمؑ ؑکے قدم کا نشان ہے جبکہ اہل بدھ مت اس کو سری بدھا یعنی گوتم بدھ کے پاؤں کا نشان کہتے ہیں۔ اس طرح ہندو مت بھی اس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
سری لنکا کے قدیم تاریخ25صدیاں پرانی ہے اور اس قدیم ورثے میں ایک قدیم درخت ،سری مہابدھی شامل ہے ۔کہتے ہیں کہ یہ درخت اسی ٹہنی سے اگا جس کے سائے میں مہا تمابدھ کو گیان حاصل ہوا تھا۔ بدھ مت کے پیروکاراس کو بڑی عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ سیاح بھی اس درخت کو ضرور دیکھنے آتے ہیں۔ سری لنکا کا دوسرا بڑا شہر کینیڈی ہے۔ یہاں بھی بہت سے تاریخی مقامات ہیں۔ ان میں سب سے مشہور جگہ مہاتمابدھ کی ہزاروں سال پرانی عبادت گاہ ہے ۔اس کو ہاتھی دانت کی عبادت گاہ کہتے ہیں۔
سری لنکا قدیم زمانے میں پیروبانے کے نام سے موسوم تھا۔یہ ایک لفظ یونانی لفظ ،کا پر سے نکلا ہے جس کے معنی تانبے کے ہیں۔ اس زمانے میں یہاں کے باشندوں کا رنگ تانبے سا تھا۔ بعد میں عربوں کے ساتھ تعلقات قائم ہوئے تو اس جزیرے کو سراندیپ کا نام دیا گیا ۔پھر لنکا یا سیلون رکھا گیا اورجو آزادی کے بعد سری لنکا قرار پایا۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش سے تقریباً پانچ سو سال قبل یہاں جنوبی ہند کے باشندوں کی مقامی حکومتیںقائم تھیں۔ یہ لوگ بدھ مت کے پیروکار تھے ۔
پیغمبرﷺکی بعثت سے قبل ہی عرب تاجروں کی سری لنکا میں آمدورفت تھی۔ یہاں کے ایک قاصد نے خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کر کے اسلام کی تعلیمات کے بارے میں معلومات حاصل کی تھیں۔ آٹھویں اور نویں صدی عیسوی تک جزیرے کی ساحلی پٹی پر مسلمان کا فی تعدادمیں آباد ہوگئے تھے جو تجارت کی غرض سے یہاں آیا کرتے۔ تامل نسل کے مسلمان بھی بھارت سے آکر آباد ہوئے ۔جزیرے کی مسلمان آبادی میں ملایااور برصغیر کے ان علاقوں سے جا کر بسنے والے بھی شامل ہیں ۔اب سری لنکا میں بارہ لاکھ سے زیادہ مسلمان آباد ہیں اور یہ اس ملک کی دوسری سب سے بڑی اقلیت ہے۔
مسلمان سری لنکا میں سنہالیوں اورتامل کے بعد تیسری بڑی آبادی ہیں ۔ اب تو ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک سیاسی جماعت،مسلم کانگریس بھی بن گئی ہے۔ مسلمانوں کے مذہبی امور اور ثقافت کے لیے علیحدہ وزارت ہے اور نگران وزیر بھی مسلمان ہے۔ اس لیے سری لنکا کا ہر بڑا شہر اور گاؤں جہاں مسلمان آباد ہیں ،کم ازکم ایک مسجد ضرور موجود ہے اور یہاں مساجد کی تعداد15ہزار سے زیادہ ہے۔
سری لنکا میں مسلمانوں کے شخصی قوانین نافذ ہیں اور ملک میں 30 کے لگ بھگ قاضی شرعی عدالتیں قائم ہیں۔ قرآن شریف کا ترجمہ سنہالی زبان میں کیا جاچکا ۔اس طرح ملک کے ہر بڑے شہر اور مسلمان آبادی کے دیہات میں قرآنی مدارس بھی قائم ہیں جن کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے۔ مسلمان بچیوں کے لیے علیحدہ علیحدہ سرکاری مسلم سکول قائم ہیں ۔اس کے علاوہ تقریباً70 عربی کالج ہیں۔ ایک قابل فخربات یہ کہ ان میں خواتین کا ایک عربی کالج بھی ہے۔
سری لنکا میں یورپی آباد کاروں کی یلغار 1505ء سے شروع ہوئی ۔سب سے پہلے پر تگال نے جزیرے کے ایک حصے پر قبضہ کیا۔1658ء میںہالینڈ نے اس کے ایک علاقے پر قبضہ کیا مگر1796ء میں انگریزوں نے پر تگالیوں کو بے دخل کر کے سری لنکا کو اپنی نو آبادی بنا لیا۔ انہوں نے یہاں قتل وغارت کا سلسلہ کینڈی بادشاہت کے خاتمہ تک جاری رکھا اوراس کا نام ’’سیلون‘‘رکھ دیا۔
اب ملک کی آبادی ایک کروڑ نوے لاکھ سے زیادہ ہے۔ مردوں اور عورتوں کا تناسب تقریباً برابر ہے اور دلچسپ بات یہ کہ آبادی کا46فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کی عمر 20سال سے کم ہے ۔شرح خواندگی93فیصد ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہاں پرائمری سے یونیورسٹی تک تعلیم مفت ہے۔ اس کے علاوہ غریب بچوں کو سکولوں میں مفت خوراک اورلباس بھی مہیا کیا جاتا ہے۔
ملک کی 74فیصد آبادی سنہالی نسل اور 18فیصد تامل نسل اور 8فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ سنہالی اکثریت بدھ مت کے پیروکار ہے جبکہ تامل ہندو ہیں۔ سنہالی ملک کی سرکاری زبان ہے لیکن تامل اور انگریزی بھی عام بولی جاتی ہے۔
سری لنکا میں صحافت کو بھی مکمل آزادی حاصل ہے۔ یہاں دو قسم کے اخبارات ہیں: ایک وہ جو حکومت خود چلاتی ہے اور دوسرے جوآزادہیں۔سری لنکا پاکستان کا دوست ملک ہے ۔اس کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے دفود کے تبادلے ہوتے رہتے ہیں۔
The post دنیا میں چراغ جلانے والا ملک appeared first on ایکسپریس اردو.