47

خیبر پختونخوا: میں ایک ماہ میں خواتین کے خلاف تشدد کے 14 بڑے واقعات

پشاور — 
خیبر پختونخوا پاکستان کا واحد صوبہ ہے جہاں گھریلو تشدد کے خلاف خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کا قانون موجود نہیں ہے۔ موجودہ حکومت کے چار برس بعد اس قانون کا مسودہ صوبائی اسمبلی میں موجود خواتین قانون سازوں پر مشتمل وومن پارلیمنٹری کاکس کی ارکین کے مشورے سے تیار تو کر لیا گیا ہےمگر تاحال اسے اسمبلی میں پیش نہیں کیا جاسکا۔ جبکہ دوسری طرف خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد میں آئے روز شدت پیدا ہورہی ہے۔
سال 2018 کی شروعات ہی صوبے میں موجود خواتین کے لئے خطرے کا پیغام لے کر آئی ہے۔ پاکستان سول سوسائٹی نیٹ ورک کے جمع کردہ اعداد کے مطابق گزشتہ ایک ماہ میں خواتین کے خلاف جرائم کے 14 کیسز رجسٹر ہوئے جن میں خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا یا پھر ان پر تیزاب پھینکا گیا۔
سب سے پہلا واقعہ صوبائی دارلحکومت پشاور میں 2 جنوری کو کوتوالی پولیس سٹیشن میں ہوا جہاں 28 سالہ سلمیٰ بی بی نے پولیس ایس ایچ او کے دفتر میں ہی احتجاجاً خود سودی کی کیونکہ پولیس نے اس پر تشدد کرنے والے مالک مکان کو بری کردیا جو تین دن بعد اسلام ٓباد کے پمز ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئےجاں بحق ہوگئی۔
5 جنوری کو زاہدالرحمان نے اپنی بیوی پر تشدد کیا جبکہ بیوی کے خالہ زاد نے اسے زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا۔ ملزم زاہد الرحمان نے اس بات سے طیش میں آ کر اپنی بیوی اور اس کے خالہ زاد کو غیرت کے نام پر قتل کر کے خودکشی کرلی۔
6 جنوری کو مردان میں لڑکی کے بھائیوں نے اپنی بہن اور ایک لڑکے کو پسند کی شادی کرنے کے جرم میں قتل کردیا۔
8 جنوری کومانسہرہ میں ایک خاتون کو غیرت کے نام پر اسلئے قتل کیا کیونکہ اس نے 15 سال قبل کوہستان میں اپنی مرضی سے شادی کی تھی۔
8 جنوری کو ہی مردان صدر میں بیٹے عاطف نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر اپنی سوتیلی ماں فطوارنی بی بی کو قتل کر دیا۔
9 جنوری کو دیر میدان میں لڑکا لڑکی کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔
9 جنوری کو ہی مردان کے علاقے دوران آباد میں شوہرنے تکرار کرنے پر طیش میں آ کر اپنی شریک حیات کو گولی ماردی۔
9 جنوری کو ہی پشاور گلدرہ میں رقاصہ بریخنہ اور اس کے والد کو رشتے سے انکار پر قتل کردیا گیا۔
18 جنوری کو ڈیرہ اسماعیل خان میں تین بھائیوں نے بہن کو غیرت کے نام پر پھندہ لگا کر قتل کیا۔
28 جنوری کو کوہاٹ میں ناراض بیوی کو بہانے سے گھر لانے کے بعد قتل کردیا۔
29 جنوری کو کوہاٹ میں میڈیکل کی طالب علم ڈاکٹر اسمہ کو رشتے سے انکار پر گولی مار کر قتل کر دیا۔
30 جنوری کو ملاکنڈ ڈویژن بٹ خیلہ میں شوہر نے بیوی اور سوتیلی بیٹی پر تیزاب پھینک دیا۔
31 جنوری کو چارسدہ پڑانگ میں 17 سالہ عائشہ کو بندوق کی نوک پر برہنہ کرکے ویڈیو بنائی گئی۔
3 فروری کو مردان میں اداکارہ سنبل کو نجی محفل میں پرفارم کرنے سے انکار پر قتل کیا گیا۔
پاکستان سول سوسائٹی نیٹ ورک کے کوآرڈینیٹر تیمور کمال نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات صرف وہ ہیں جنہیں پولیس کے ساتھ رجسٹر کیا گیا یا پھر انہیں خبروں میں جگہ ملی۔ اس کے علاوہ بے شمار ایسے کیسز بھی ہوں گے جنہیں رپورٹ نہیں کیا گیا ہوگا۔ جبکہ خواجہ سراؤں اور بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم کو اس میں شامل کردیا جائے تو یہ فہرست بہت لمبی ہوتی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ تمام واقعات میڈیا پر رپورٹ ہوچکے ہیں لیکن غیرت کے نام پر ہونے والے واقعات میں اکثر اوقات پولیس بھی اُس وقت تک کوئی ایکشن نہیں لیتی جب تک کوئی ان کے پاس خود آکر رپورٹ نہ کرے کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ غیرت خاندان کا اندرونی مسئلہ ہے۔
تیمور کمال نے اس بات پر زور دیا کہ گھریلو تشدد کے مسودے کو جلد از جلد اسمبلی میں پیش کر کے اسے قانون کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے جبکہ حکومت کو چاہئیے کہ وہ پہلے سے موجود قوانین پر بھی سختی سے عمل درامد کروائے تاکہ خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم پر قابو پایا جاسکے۔