18

خط میں سفید پاؤڈر، ٹرمپ جونیئر کی اہلیہ ہسپتال منتقل

امریکہ میں پولیس کے مطابق سفید پاوڈر والے ایک خط کا لفافہ کھولنے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بہو ونیسا ٹرمپ کو حفاظتی اقدامات کے تحت ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ یہ خط ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے بیٹے ٹرمپ جونئیر کے نام تھا اوراس پر ان کے مین ہٹن اپارٹمنٹ کا پتا درج تھا۔ ونیسا ٹرمپ اور موقع پر موجود دو دیگر افراد کو فائرفائٹرز نے تشخیص کے لیے ہسپتال پہنچایا۔ نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں خط میں موجود سفید سفوف کی جانچ کی ہے اور تصدیق کی ہے کہ وہ غیرمضر تھا۔ پولیس حکام کا کہنا تھا کہ بظاہر ونیسا ٹرمپ اس چیز سے جسمانی طور پر متاثر نہیں ہوئی ہیں۔ بعدازاں ٹرمپ جونیئر نے ٹویٹ کیا کہ ان کا خاندان محفوظ ہے اور انھوں نے اس واقعے کو ’ناگوار‘ قرار دیا۔ یہ بھی پڑھیں!ٹرمپ نے اپنے بیٹے کے بارے میں بیان خود ڈکٹیٹ کروایاامریکہ کی دوسری ‘فرسٹ لیڈی’ڈونلڈ ٹرمپ کون ہیں؟وائٹ ہاوس کی ترجمان سارا سینڈرز نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ونیسا ٹرمپ جونیئر سے بات چیت کی ہے۔ نیویارک کے فائر ڈیپارٹمنٹ نے میڈیا کی جانب سے کی جانے والی کالز پولیس کو منتقل کیں تاہم انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ تین افراد کو ویل کورنل میڈیکل سینٹر پہنچایا گیا تھا۔ مقامی حکام کے مطابق پولیس کو کال مقامی وقت کے مطابق دس بجے صبح (شام تین بجے جی ایم ٹی وقت) کے قریب کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ جونیئر کے اپارٹمنٹ کو اب صاف کیا جا رہا ہے۔ سی بی ایس نیو یارک کے مطابق ونیسا ٹرمپ کی والدہ نے یہ خط موصول کیا تھا جسے ونیسا نے کھولا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  عسکریت پسندوں کے خلاف فلپائن کی فورسز کے لیے امریکہ کی معاونت

امریکی سیکرٹ سروس کا کہنا ہے کہ وہ آج موصول ہونے والے ایک مشکوک پیکٹ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ خیال رہے کہ ٹرمپ جونیئر نے ستمبر میں اپنی اہلیہ اور پانچ بچوں کی حفاظت کے لیے سیکرٹ سروس کی خدمات حاصل کرنا چھوڑ دی تھیں تاہم ایک ہفتے بعد ہی دوبارہ انھیں حفاظت پر مامور کر دیا گیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اپنے والد کے ساتھ کاروبار سے منسلک ہیں اور انھوں نومبر 2005 میں ونیسا کے ہیڈن سے فلوریڈا میں شادی کی تھی۔ ٹرمپ جونیئر سے شادی سے قبل ونیسا ٹرمپ نیویارک میں فیشن ماڈل رہ چکی ہیں۔ خیال رہے کہ امریکی حکام سنہ 2001 میں ڈاک کے ذریعے قانون سازوں اور صحافیوں کو زہریلا مواد انتھراکس بھیجنے کے بعد سے الرٹ ہیں جس میں پانچ افراد کی موت ہوئی تھی۔