16

’جب جنسی طور پر کمزور مرد سے میری شادی ہوئی‘

ہاتھ میں دودھ کا گلاس لیے اور سر کو جھکائے میں بیڈ روم میں داخل ہوئی۔ مجھے اس بات کا ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ مجھے بڑا دھچکہ لگنے والا ہے۔میرے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے ہی وہ سو چکا تھا۔35 سال کی عمر تک میں کنواری رہی۔ اپنے شوہر کے ایسا کرنے سے مجھے یوں محسوس ہوا کہ میرے شوہر نے میرے پورے وجود کو مسترد کر دیا ہے۔نہ صرف کالج بلکہ دفتر میں بھی میں نے بہت سے لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان گہری محبت دیکھی تھی۔ وہ اپنے ساتھی کے کندھے سے سر لگائے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے گھومتے تھے۔ اس وقت میں سوچا کرتی تھی کہ کاش میرے ساتھ بھی کوئی ہوتا۔ کیا مجھے ایسے کسی ساتھی کی تمنا نہیں کرنی چاہیے تھی؟میرا خاندان بہت بڑا تھا۔ چار بھائی، ایک بہن اور بوڑھے والدین۔ اس کے باوجود میں ہمیشہ تنہا محسوس کرتی تھی۔بڑھتی عمر کے باوجود میں تنہا تھیمیرے تمام بھائی بہن شادی شدہ تھے اور ان کا اپنا خاندان تھا۔ کبھی کبھی میں سوچتی کہ کیا وہ میری پروا بھی کرتے ہیں کہ میری عمر بڑھ رہی ہے اور میں اب تک تنہا ہوں۔میرے دل میں بھی محبت کی خواہش تھی لیکن وہ تنہائیوں میں گھری تھی۔ کبھی مجھے لگتا کہ یہ صرف میرے موٹاپے کی وجہ سے ہے۔ کیا مرد موٹی لڑکیوں کو ناپسند کرتے ہیں؟ کیا میرے وزن کی وجہ سے میرے گھر کے لوگوں کو رشتہ نہیں مل پا رہا ہے؟ کیا میں ہمیشہ تنہا ہی رہوں گی؟ یہ سوال ہمیشہ میرے ذہن میں گھومتے رہتے۔شادی کے بعد میری الجھن

بالآخر جب میں 35 سال کی ہوئی تو مجھ سے 40 سال کا ایک شخص شادی کرنے کے لیے سامنے آيا۔ ملاقات کے دوران میں نے اسے اپنے جذبات اور خیالات کے بارے میں بتایا۔لیکن اس نے کوئی توجہ نہ دی اور نہ ہی اس کا کوئی جواب دیا۔ وہ قدرے پریشان لگا۔ وہ خاموشی سے نظریں نیچی کیے سر ہلاتا رہا۔ میں نے سوچا کہ آج کل خواتین سے زیادہ مرد شرمیلے ہوتے ہیں اور میرا ہونے والا شوہر بھی ویسا ہی ہے۔ شاید اسی لیے اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ لیکن شادی کی رات ہونے والی واردات نے مجھے الجھن میں ڈال دیا۔ مجھے پتہ نہیں کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔جب میں نے اپنے شوہر سے اگلی صبح پوچھا تو اس نے کہا کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ لیکن اس کے بعد بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ہماری دوسری، تیسری، اور بہت سے راتیں اس طرح ہی گزر گئيں۔ میری ساس نے میرے شوہر کا دفاع کیاجب میں نے ساس کو بتایا تو انھوں نے بھی اپنے بیٹے کا دفاع کیا۔ انھوں نے کہا ’وہ شرمیلا ہے، وہ بچپن سے ہی لڑکیوں سے گفتگو کرنے میں ہچکچاتا ہے۔ اس نے لڑکوں کے سکول میں تعلیم حاصل کی ہے، اس کی بہن ہے اور نہ کوئی خاتون دوست۔’اگرچہ مجھے اس سے عارضی تسلی تو ملی لیکن میں اس موضوع کے بارے میں سوچنا ترک نہ کر سکی۔ میری تمام امیدیں، خواب اور خواہشات دن بہ دن ٹوٹ رہی تھیں۔میری بے چینی کا واحد سبب جنسی تعلق نہیں تھا۔ وہ مجھ سے بات بھی بہت کم کرتا۔ مجھے لگتا کہ ہمیشہ مجھے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ چھونا پکڑنا تو دور کی بات وہ تو مجھ سے دور بھاگتا تھا۔میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگاکیا میرا وزن ان کے اس رویے کا سبب ہے؟ کیا انھوں نے مجھ سے کسی دباؤ میں شادی کی ہے؟میں نہیں جانتی تھی کہ یہ باتیں کس سے کہوں۔ میں اپنے خاندان والوں سے بات نہیں کر سکتی تھی کیونکہ سب یہی سوچ رہے تھے کہ میں بہت خوش ہوں۔لیکن میرے صبر کا بندھن ٹوٹ رہا تھا۔ مجھے اس کا حل تلاش کرنے کی ضرورت تھی۔عام طور پر چھٹیوں والے دن بھی وہ گھر پر نہیں رہتا تھا، وہ یا تو اپنے کسی دوست کے گھر یا اپنے والدین کو باہر لے جاتا۔ اتفاق سے اُس دن وہ گھر پر ہی تھا۔ میں کمرے میں داخل ہوئی اور دروازہ بند کر لیا۔ وہ تیزی سے اپنے بستر سے اٹھے جیسے چھلانگ لگا دی ہو۔ میں ان کے پاس گئی اور پیار سے پوچھا: ‘کیا تم مجھے پسند نہیں کرتے ہو؟ آپ نے ابھی تک مجھے اپنے جذبات کے بارے میں بھی نہیں بتایا ہے، پھر آپ کا کیا مسئلہ ہے؟’انھوں نے جواب دیا: ‘مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔’جب مجھے پتہ چلا۔۔۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  مشورے کی اہمیت و افادیت - ایکسپریس اردو

جب انھوں نے یہ کہا تو میں نے سوچا کہ یہ ان کے قریب جانے اور انھیں اپنی طرف متوجہ کرنے کا ایک موقع ہے۔ میں نے ان کے ساتھ جسمانی چھیڑ چھاڑ شروع کردی۔میں نے سوچا کہ ان پر کوئی اثر پڑے گا، لیکن وہ متاثر نہیں ہوئے۔میں اس کے متعلق کس سے بات کروں مجھے اس کا علم نہیں تھا۔ لیکن یہ بات مجھے پریشان کر رہی تھی کہ جس طرح مرد کسی عورت کی خوبصورتی کا اندازہ لگانا پسند کرتے ہیں ویسے ہی میں اپنے شوہر کی جسمانی خصوصیات کا تعین کیوں نہیں کر سکتی؟ اگر میں اس سے کچھ توقع رکھتی ہوں تو یہ غلط کیوں ہے؟مجھے دھوکہ دیا گیااس کے بعد ایک دن مجھے پتہ چلا کہ وہ جسنی طور پر کمزور ہے اور ڈاکٹر نے ہماری شادی سے پہلے اس کی تصدیق کر دی تھی۔ وہ اور اس کے والدین سب کچھ جانتے تھے۔ مجھے دھوکہ دیا گیا تھا۔جب میں سچ کے بارے میں جان گئی تو میرے شوہر کو شرمندگی ہوئی تاہم انھوں نے کبھی اپنی کمزوری تسلیم نہیں کی۔سماج میں ہمیشہ خواتین کی چھوٹی سے چھوٹی غلطیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اگر مرد بھی کوئی غلطی کرے تو انگلیاں خواتین کی طرف اٹھتی ہیں۔میرے رشتہ داروں نے مجھے مشورہ دیا: ‘سیکس ہی سب کچھ نہیں ہے، آپ بچہ گود لینے پر غور کیوں نہیں کرتیں؟‘میرے سسرال والوں نے مجھ سے منت سماجت کی کہ ‘اگر لوگوں کو سچ معلوم ہو گا تو یہ ہم سب کے لیے بہت شرمندگي کی بات ہوگی۔’لیکن ۔۔۔ شوہر کی بات پر دل ٹوٹ گيامیرے خاندان نے مجھ سے کہا: ‘یہ تمہاری قسمت ہے۔’ لیکن اس وقت میرے شوہر نے جو کہا اس سے میرا دل ٹوٹ گیا۔انھوں نے کہا: ‘جو کچھ تم چاہو کرو، کسی اور کے ساتھ سو سکتی ہو، میں تمہیں پریشان نہیں کروں گا اور نہ ہی اس بارے میں کسی کو بتاؤں گا۔ اگر اس سے تمہیں بچہ ہو جائے تو اسے میں اپنا نام دینے کے لیے تیار ہوں۔’کسی عورت کو اپنے شوہر کے اس قسم کے خیالات کو نہیں سننا چاہیے۔ وہ بے ایمان تھا اور وہ اپنی اور اپنے خاندان کی عزت کی حفاظت کے لیے یہ کہہ رہا تھا۔وہ میرے پیروں پر گر کر رونے لگا اور کہا: ‘پلیز، یہ بات کسی کو نہ بتانا اور نہ مجھے طلاق دینا۔’اس نے جو تجویز دی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی۔ اب میرے سامنے دو ہی راستے تھے، میں اسے چھوڑ دوں یا پھر اسے اپنے زندگی کے ساتھی کے طور پر قبول کروں اور اپنی خواہشات کو قربان کردوں۔آخرکار میرے جذبات کی جیت ہوئی۔ میں نے اپنے اس نام نہاد شوہر کا گھر چھوڑ دیا۔ میرے والدین نے مجھے قبول نہیں کیا۔دوستوں کی مدد سے ایک خواتین ہاسٹل میں جگہ مل گئی۔ جلد ہی مجھے ملازمت مل گئی اور رفتہ رفتہ میری زندگی راہ پر آنے لگی۔ اسی دوران میں نے عدالت میں طلاق کی درخواست داخل کر دی۔میں اب بھی کنواری ہوںمیرے شوہر اور اس کے اہل خانہ نے سچائی کو چھپاتے ہوئے مجھ پر غیر مرد کے ساتھ تعلقات کا الزام لگا دیا۔ میں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی اور اپنا طبی معائنہ کروایا۔ تین سال بعد بالآخر مجھے طلاق مل گئی۔ میں نے محسوس کیا کہ میرا دوسرا جنم ہوا ہے۔آج میں 40 کی ہوں اور اب بھی کنواری ہوں۔ اس دوران بہت سے مردوں نے مجھ سے رابطہ کیا۔ ان کا خیال تھا کہ میں نے اپنے شوہر کو اس لیے چھوڑ دیا کیونکہ اس سے مجھے جنسی تسکین حاصل نہیں ہوئی۔یہ میرے بارے میں غلط تصور تھا۔ میں ایسے مردوں سے دور رہنے کی کوشش کرتی ہوں۔ ان میں سے کوئی بھی مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔خواتین بھی حساس ہیںمیں اپنی خواہشات، خوابوں اور جذبات کو صرف ان کے ساتھ شیئر کرنا چاہتی ہوں جو مجھ سے پیار کرے، میرا خیال رکھے، میرے جذبات کو سمجھے اور زندگی بھر میرے ساتھ رہنا چاہے۔میں اس مرد کا انتظار کر رہی ہوں۔ فی الحال میں اپنے دوستوں سے ان کی جنسی زندگی کے بارے میں بات کر کے ہی خوش ہو لیتی ہوں۔بہر حال ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے جو میرے بارے میں سیکس کے تعلق سے سوچتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ایسے لوگ خواتین کو بے جان شے سمجھتے ہیں جبکہ خواتین بھی بہت حساس ہوتی ہیں اور ان میں بھی جذبات ہوتے ہیں۔(یہ جنوبی بھارت میں رہنے والی ایک خاتون کی زندگی کی حقیقی کہانی ہے۔ بی بی سی کی نمائندہ ایشوریہ روی شنکر نے ان سے بات کی۔ خاتون کے مطالبے پر ان کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ اس سیریز کی پروڈیوسر دویہ آریہ ہیں۔ HerChoice# کی کہانی آپ ہر پیر اور منگل کو بی بی سی اردو پر پڑھ سکتے ہیں)