43

جبری گمشدگی پر احتجاجاً بھوک ہڑتال

کراچی پریس کلب کے ساتھ لگی دیوار کے پاس پچھلے چار دنوں سے خواتین کا بھوک ہڑتالی کیمپ لگا ہوا ہےـ یہ خواتین بلوچستان کے پسماندہ علاقے مشکے سے تعلق رکھتی ہیں۔ دیوار پر آویزاں تصویروں سے یہ واضح ہے کہ یہ کیمپ جبری طور پر گمشدہ ہونے والے متاثرین کے لواحقین نے لگایا ہےـ کیمپ میں زیادہ تعداد تر تعداد کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ کی ہے۔ جن کا مطالبہ ہے کہ مبینہ طور پر حراست میں لیے گئے ساتھیوں کو رہا کیا جائے۔لواحقین نے 28 اکتوبر کو رات گئے پیش آنے والے گمشدگی کے واقعے کی تفصیل ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان کو جمع کروائی ہیں۔یہ بھی پڑھیےبلوچ خواتین آخر کہاں سے گرفتار کی گئیں؟اللہ نذر بلوچ کے اہلخانہ کو حراست میں لینے کا الزام2016 میں 728 افراد لاپتہ ہوئے: ایچ آر سی پیلواحقین نے بتایا کہ پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا تھا۔ کیمپ میں موجود طالبہ نازنین بلوچ کا تعلق مقامی ادارے بلوچ ہیومن رائٹس تنظیم سے ہے جبکہ اُن کی دو اور ساتھی فرح اور صبا اردو میں بات نہیں کرسکتی ہیں۔ فرح دو روز قبل تک ایک ہسپتال میں ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ لگنے کے باعث داخل تھیں۔ ان کو خصوصی طور پر احتجاجی کیمپ لایا گیا تھا کیونکہ وہ 28 اکتوبر کے واقعے کی چشم دید گواہ ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان میں جمع کرائی گئی درخواست کے متن کے مطابق ’28 اکتوبر کو وردی اور سادہ لباس میں ملبوس افراد نے دو علاقوں میں تین وارداتیں کیں جن کے نتیجے میں 9 افراد کو گرفتار کیا گیاـ مبینہ طور پر گرفتار ہونے والے افراد میں گلستانِ جوہر سے بلوچ ہیومن رائٹس کے سیکریٹری اطلاعات نواز عطا بلوچ اور ساتھ میں گلشنِ حدید سے 8 سالہ آفتاب بلوچ،13 سالہ الفت الطاف، 17 سالہ فرہاد بلوچ، 18 سالہ سجاد بلوچ، 23 سالہ عارف بلوچ، 25 سالہ راوت بلوچ، 27 سالہ الیاس بلوچ بھی شامل ہیں۔‘ گمشدگی کے واقعے کے بعد احتجاجی کیمپ لگایا گیاـ کیمپ میں موجود صبا بلوچ نے بتایا کہ ’سادہ لباس میں ملبوس افراد نے مجھے دھمکاتے ہوۓ کہا کہ ہم خواتین کو بھی گرفتار کرسکتے ہیں۔ وہ ہمارے گھر کی چند خواتین کو لے گئے تھے لیکن کچھ دیر بعد واپس گھر میں لاک کر کے چلے گئے۔‘صبا بلوچ نے کہا کہ ’ہم مشکے سے کراچی وہاں پر ہونے والے آپریشن سے بچنے کے لیے آئے تھے ـ اب ہمارے ساتھ یہاں بھی وہی سب ہو رہا ہےـ ہمارے سکول کیمپ کی شکل اختیار کرچکے ہیں اور اس وقت ہم لامکان ہیں۔‘اس واقعے کے بارے میں گلستانِ جوہر تھانے کے اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بات کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔انھوں نے بتایا کہ لواحقین اب تک تھانے نہیں آۓ اور نہ ہی اس واقعے کی ایف آئی آر درج ہوئی ہےـ یاد رہے کہ بلوچستان اور سندھ کے اضلاع سے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین اکثر کراچی آتے ہیں کیونکہ یہاں میڈیا تک رسائی آسان ہے۔لیکن ایک یا دو اخبارات کے سوا زیادہ تر جبری گمشدگیوں کے بارے میں لکھنے سے کتراتے ہیں۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  واشنگٹن میں 'کیرئیر سفارت کار' کو پاکستان کا سفیر مقرر کرنے پر زور

ایچ آر سی پی سندھ کے نائب صدر اسد اقبال بٹ نے کہا کہ ’ہمارا ریاست سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ گرفتار شدہ لوگوں کو عدالتوں میں پیش کریں۔ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ لوگوں کو چھاپے مار کر غائب کیا جائے۔ ابھی تک کسی بھی شخص کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا جو کہ بذاتِ خود ایک جرم ہےـ‘ انھوں نے کہا کہ ’پہلے یہ سننے میں نہیں آیا کہ وردی میں ملبوس اہلکار گھروں میں جا کر لوگوں کو گرفتار کریں اور پھر جب عدالت ان کو بلائے تو کہیں کہ ہمارے پاس نہیں ہیں۔‘ احتجاجی کیمپ میں میڈیا کے نمائندوں کے علاوہ سماجی کارکن جبران ناصر بھی موجود تھے۔ جبران نے جبری گمشدگی پر بات کرتے ہوۓ کہا کہ ’یہ معاملہ اب ایک دو لوگوں کا نہیں رہا کیونکہ بات اب سیکولر یا مذہبی، قوم پرست یا سیاسی جماعت کے کارکن تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ بات اب ہم سب کی ہے اوراب سب کو ایک فورم پر لانے کے ضرورت ہےـ۔‘حال ہی میں کراچی اور بلوچستان میں یکِ بعد دیگر جبری طور پر گمشدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے بانی ڈاکٹر اللہ نظر کی اہلیہ اور ان کی بیٹی بھی شامل ہیں۔