42

تُو ہی تُو، بس تُو ہی تُو

دن کیا اور رات کیا
سورج کیا اور چاند کیا
بھوک کیا اور پیاس کیا
راز کیا اور فاش کیا
پھول کیا اور پودے کیا
جنّت کیا اور دوزخ کیا
جھوٹ کیا اور سچ کیا
خوشی کیا اور غم کیا
تنہائی کیا اور ہجوم کیا
ماضی کیا اور حال کیا
دولت کیا اور شہرت کیا

ہر رنگ میں ہے تُو
ہر روُپ میں ہے تُو
اندر بھی تُو
باہر بھی تُو
انگ انگ میں بسا ہے تُو
ہر نس میں سما ہے تُو
تُو ہے بس تُو ہی تُو

چھت بھی تُو زمیں بھی تُو
جسم بھی تُو جاں بھی تُو
راہ بھی تُو منزل بھی تُو
امید بھی تُو کامیابی بھی تُو
ملن بھی تُو وصال بھی تُو
زندگی بھی تُو موت بھی تُو
چَین بھی تُو سکون بھی تُو
کل بھی تُو آج بھی تُو
ابتداء بھی تُو انتہاء بھی تُو
ہر جگہہ ہر ذرّہ میں
تُو ہی تُو، بس تُو ہی تُو

شاکرہ نندنی