32

ترکی کے انتخابات میں طیب اردوان فتح کے قریب

ترکی کے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں ابتدائی نتائج کے مطابق موجودہ صدر طیب اردوان اور اُن کی جماعت اے کے پارٹی بظاہر فتح کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

اس جیت کے ساتھ  15 سال سے  اقتدار  میں رہنے والے صدر طیب اردوان ایک اور مدت کیلئے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔

ترکی کے انتخابی قوانین کے مطابق جیت کیلئے کسی اُمیدوار کو  50 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرنا لازمی ہیں۔ اگر اُمیداروں کو 50 فیصد سے کم ووٹ حاصل ہوتے ہیں تو قواعد کی رو سے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو اُمیدواروں میں دوبارہ مقابلہ ہوتا ہے۔ تاہم طیب اردوان کو ابتدائی نتائج کے مطابق 54 فیصدر ووٹ حاصل ہوئے ہیں جبکہ اُن کے مخالف اُمیدوار محرم انچے کو 34 فیصد ووٹ ملے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جیت کے ساتھ طیب اردوان کو پہلے سے زیادہ اختیار حاصل ہو جائیں گے اور یوں اس ملک میں ایک شخص کی آمریت قائم ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

پارلیمانی انتخابات میں طیب اردوان کی جماعت اے کے کی اتحادی جماعت ایم ایچ پی کو بھی توقع سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ یوں طیب اردوان کی جماعت کے اتحاد کو پارلیمان میں بھرپور اکثریت حاصل ہو جانے کا امکان ہے۔

مخالف  سیاسی جماعتوں کے تشکیل کردہ فیئر الیکشن پلیٹ فارم نے بھی تصدیق کی ہے کہ اردوان کو 53 فیصد کے لگ بھگ ووٹ حاصل ہو گئے ہیں۔