66

بھارتی کشمیر میں فوجی کیمپ پر عسکریت پسندوں کا حملہ

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مشتبہ عسکریت پسندوں نے فوج کے ایک کیمپ پر حملہ کیا جس میں کم از کم دو بھارتی فوجی ہلاک اور دیگر سات افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
جموں پولیس کے سربراہ ایس ڈی جاموال نے صحافیوں کو بتایا کہ ہفتہ کو علی الصبح فوجی کیمپ کے محافظ کو مشکوک نقل و حرکت نظر آئی جس کے بعد اچانک فائرنگ شروع ہو گئی۔
ان کے بقول حملہ آوروں نے فوجی اہلکاروں کے رہائشی حصے میں دھاوا بولا جس سے ایک اہلکار کی بیٹی بھی زخمی ہوئی۔
حکام کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد تین سے چار ہو سکتی ہے جنہیں کیمپ کے ایک حصے تک محدود کر دیا گیا ہے اور ہفتہ کی دوپہر تک سکیورٹی فورسز اور حملہ آروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا۔
یہ فوجی کیمپ جموں کے مضافات میں واقع ہے اور حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے اس پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور علاقے میں تمام اسکولوں کو بھی بند کر دیا گیا۔
کشمیر کا علاقہ بھارت اور پاکستان کے درمیان متنازع ہے جس کا ایک حصہ بھارت اور ایک پاکستان کے زیر انتظام ہے۔
نئی دہلی اپنے زیر انتظام علاقے میں علیحدگی پسندوں کی حمایت اور انھیں مسلح کرنے کا الزام اسلام آباد پر عائد کرتا ہے لیکن پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ کشمیریوں کی سفارتی اور اخلاقی حمایت کے عزم پر قائم ہے۔
1989ء سے بھارتی کشمیر میں متعدد عسکریت اور علیحدگی پسند گروپ سرگرم میں جو کہ اس علاقے سے بھارتی فوجی کے انخلا اور آزادی کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔
ایسے گروپوں کی کارروائیوں اور ان کے خلاف سکیورٹی آپریشنز کے باعث اب تک 70 ہزار کے لگ بھگ مارے جا چکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی بتائی جاتی ہے۔