30

بنوں میں پشتون تحفظ تحریک کا بڑا جلسہ

پاکستان میں رہنے والے پشتونوں کے حقوق کے لئے شروع کی گئی تحریک پشتون تحفظ موومنٹ نے خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں جلسہ منعقد کیا جس میں ملک بھر سے آئے پشتونوں کے علاوہ سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

شرکاء میں ایک بڑی تعداد نے اپنے پیاروں کی تصاویر اُٹھائی ہوئی تھیں جو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنے گھروں سے نامعلوم وجوہات کی بنا پر گمشدہ ہیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ پانچ مطالبات لے کر نکلی ہے جس میں نقیب اللہ قتل میں ملوث ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو سزا دلوانا، گمشدہ افراد کی واپسی و عدالتوں میں پیشی، ماورائے عدالت قتل افراد کے لئے عدلتی کمیشن کا قیام، قبائلی علاقوں سے بارودی سرنگوں کی صفائی اور آرمی چیک پوسٹوں پر پشتونوں کی تذلیل روکنا شامل ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے پی ٹی ایم کے رہنما اور قومی اسمبلی کے ممبر محسن داوڑ نے کہا کہ  ان انتہائی کم وسائل اور مشکلات کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ ہمارے مطالبات کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے اس جلسے کو ضلع بنوں کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو سمجھتے تھے کہ ہماری تحریک ختم ہوگئی تو یہ جلسہ ان کے لئے “عملی جواب” ہے۔

اس موقع پر پشتون تحفظ موومنٹ کی کور کمیٹی کی ممبر ثناء اعجاز نے وائس اف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ریاستی اداروں نے انہیں ہراساں کیا اور جہاں بھی ہم جاتے ان کے لوگ ہمیں تنگ کرتے اور کام کرنے نہیں دیتے تھے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  توقع تھی کہ نظرثانی اپیلیں مسترد ہی ہوں گی، مولانا فضل الرحمان

انہوں نے کہا کہ پشتون روایات ہیں کہ عورت گھر کی چاردیواری میں رہتی ہے مگر ہم نےبنیادی انسانی حقوق کے حصول کی خاطر اپنی رویت  بدل ڈالی۔

پاکستان میں میڈیا سنسر شپ کے باعث قومی میڈیا میں پشتون تحفظ موومنٹ کو کوریج نہیں جاتی، جس کے حل کے لئے تحریک کے کارکنان سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں مگر جلسے کے اطراف میں انٹرنیٹ سروس کو معطل کردیا گیا تھا جس کے باعث سوشل میڈیا پر کوریج میں مشکلات پیش آئی۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے تحریک کے بانی منظور پشتین نے کہا کہ ہم عدم تشدد کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں اور پاکستان میں پشتونوں کے لئے پرامن طریقے سےحقوق لینے کے لئے جلسے کرتے رہینگے۔  تاہم انہوں نے یہ بات دہرائی کہ ریاست انہیں حقوق دینے کے بجائے مختلف طریقوں سے تنگ کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے کارکنوں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔  ان کے خلاف جھوٹے مقدمے بنائے جاتے ہیں۔

جلسے میں وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ممبر علی وزیر اور محسن داوڑ بھی موجود تھے جنہیں پی ٹی ایم سے الیکشن میں  حصہ لینے کی وجہ سے تحریک کی کور کمیٹی سے ہٹا دیا تھا۔