72

بلوچستان سے خواتین کی گمشدگی، صورتحال تاحال مبہم

پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے علیحدگی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ کی اہلیہ اور بچوں سمیت دیگر خواتین کی گرفتاری کی خبر کو اگرچہ مقامی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں کوئی جگہ نہیں ملی لیکن یہ سوشل میڈیا پر زیر بحث اہم موضوعات میں شامل رہی۔حکومت نے تین خواتین کی گرفتاری کی تصدیق تو کی ہے لیکن حکومت بلوچستان کے ترجمان کے مطابق ان خواتین کو افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن سے گرفتار کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق یہ خواتین ایک گاڑی میں سرحد پار کر کے افغانستان جانا چاہتی تھیں۔ان خواتین کو کالعدم تنظیموں سے تعلق کے شبے میں گرفتار کرنے کے بارے میں بتایا گیا لیکن تاحال ان کی شناخت کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔بلوچ قوم پرست تنظیموں اور حلقوں کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ ایک اور گوریلا کمانڈر اسلم بلوچ کی ہمشیرہ اور ان کے بچوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔دوسری جانب بدھ کو حکومت نے سینٹ میں تسلیم کیا کہ بلوچستان میں گذشتہ دنوں گرفتار کی جانے والی تین خواتین سکیورٹی اداروں کی حراست میں ہیں، تاہم حزب اختلاف کے سینٹروں نے اس جواب کو ناکافی اور ان کی فوری رہائی کا حکم نہ دینے پر اجلاس سے احتجاجا واک آوٹ کیا ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی (ایم) کے سینٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی، پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمد عثمان کاکڑ اور سردار محمد اعظم خان موسی خیل نے مشترکہ توجہ دلاؤ نوٹس میں ایوان خواتین اور تین بچوں کی گمشدگی کا معاملہ اٹھایا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ انھوں نے ان خواتین اور بچوں کے بارے میں تازہ ترین صورتحال جاننے کے لیے آج بلوچستان کے چیف سیکریٹری، ڈی آئی جی کوئٹہ اور آواران کے ڈی پی اور سے بات کر کے معلومات لی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ یہ خواتین غیرقانونی طور پر چمن کے راستے افغانستان جانا چاہتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایوان کو مزید معلومات کے لیے انھیں وقت دے تو وہ مزید معلومات حاصل ہونے پر ایوان کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔ حراست میں لی جانے والی خواتین کی شناخت کے بارے میں تاحال نہ بتانے کی وجہ سے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان خواتین کا تعلق ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ یا اسلم بلوچ کے خاندان سے ہے، تاہم اس سے فوری طور پر یہ تاثر ابھرا ہے کہ یہ ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ کے خاندان کے لوگ ہیں۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  لیکن یاسر شاہ کا کیا قصور ہے؟

لیکن قوم پرست جماعتوں کے علاوہ سوشل میڈیا پر یہ کہا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ کی اہلیہ فضیلہ بلوچ اور ان کے بچوں کو کوئٹہ شہر سے مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا۔قوم پرست جماعت بلوچ رپبلکن پارٹی کی جانب سے ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ کی اہلیہ کی ایک تصویر بھی جاری کی گئی ہے۔اس تصویر میں وہ بظاہر ایک ہسپتال میں زیر علاج دکھائی دے رہی ہیں۔اگرچہ یہ نہیں بتایا جا رہا ہے کہ فضیلہ بلوچ کب کوئٹہ آئیں، لیکن یہ کہا جارہا ہے کہ ان کو کوئٹہ شہر میں سریاب کے علاقے سے گرفتار کیا گیا۔ قوم پرست جماعت بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کا کہنا ہے کہ فضیلہ کو ان کی بیٹی پوپل جان سمیت تین دیگر خواتین اور چھ بچوں کو 30 اکتوبر کو اٹھایا گیا۔بی این ایم کے چیئر مین خلیل بلوچ کے مطابق ان میں بلوچ قوم پرست رہنما اسلم بلوچ کی ہمشیرہ اور ان کے چار بچے شامل ہیں۔ خلیل بلوچ نے چمن سے ان خواتین کی گرفتاری کے کے بارے میں سرکاری موقف کو رد کرتے ہوئے اسے سرکاری پروپیگنڈا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ خواتین کو چمن یا افغانستان جاتے ہوئے نہیں بلکہ کوئٹہ میں سریاب روذ سے اسلم بلوچ کی ہمشیرہ کے گھر سے اٹھایا گیا۔خلیل بلوچ نے کہا کہ ڈاکٹر اللہ نذر کی اہلیہ ایک فوجی آپریشن میں زخمی ہوئی تھیں جس کے بعد ان کے کمر کا آپریشن ہوا تھا جو ناکام رہا۔ان کا کہنا ہے کہ وہ علاج کی غرض سے کوئٹہ میں موجود تھیں۔بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان خواتین اور بچوں کو فوری طور پر منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا۔گذشتہ روز ان خواتین اور بچوں کی بازیابی کے لیے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا تھا۔